حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 26
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 26 باتیں اُس سفر میں ہوئیں، اُن میں سے یہی دو باتیں مجھے یاد ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا چیز تھی جس نے مجھے حضرت صاحب کی صداقت کو قبول کرنے اور آپ کی بیعت کر لینے کی طرف کشش کی۔سوائے اس کے کہ آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھا جس پر یہ گمان نہ ہوسکتا تھا کہ وہ جھوٹا ہو۔دوسرے یا تیسرے دن میں نے حافظ حامد علی صاحب سے کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔حضرت صاحب مجھے ایک علیحدہ مکان میں لے گئے۔جس حصہ زمین پر نواب محمد علی خان صاحب کا شہر والا مکان ہے اور جس کے نیچے کے حصہ میں مرکزی لائبریری رہ چکی ہے، جس کے بالا خانہ میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب رہ چکے ہیں۔( آج کل اگست 1935ء میں وہ بطور مہمان خانہ استعمال ہوتا ہے ) اس زمین پر اُن دنوں حضرت کا مویشی خانہ تھا۔گائے ، ہیل اُس میں باندھے جاتے تھے اس کا راستہ کو چہ بندی میں سے تھا۔حضرت صاحب کے اندرونی دروازے کے سامنے مویشی خانہ کی ڈیوڑھی کا دروازہ تھا۔یہ ڈیوڑھی اُس جگہ تھی ، جہاں آج کل لائبریری کے دفتر کا بڑا کمرہ ہے۔اس ڈیوڑھی میں حضرت صاحب مجھے لے گئے اور اندر سے دروازہ بند کر دیا۔اُن ایام میں ہر شخص کی بیعت علیحدہ علیحدہ لی جاتی تھی، ایک چارپائی بچھی تھی اس پر مجھے بیٹھنے کو فرمایا۔حضرت صاحب بھی اس پر بیٹھے، میں بھی بیٹھ گیا۔میرا دایاں ہاتھ حضرت صاحب نے اپنے ہاتھ میں لیا اور دس شرائط کی پابندی کی مجھ سے بیعت لی۔دس شرائط ایک ایک کر کے نہیں دہرائیں۔بلکہ صرف دس شرائط کہہ دیا۔۔۔۔“ ذکر حبیب صفحہ 4 تا 6 از حضرت مفتی محمد صادق صاحب مطبوعہ 1936 ء) اسی زمانے کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ” جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا جو کہ غالباً دسمبر 1890ء کے آخر میں تھا۔اس وقت میں اُس کمرے میں ٹھہرایا گیا، جسے گول کمرہ کہتے ہیں۔اس کے آگے وہ تین دیواری نہ تھی جواب ہے۔اس وقت یہی مہمان خانہ تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہیں بیٹھ کر