حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 28
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 28 رہنمائی کی۔یہ شوق وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔جولائی 1899 ء میں ایک معزز افسر قادیان آ کر حضرت اقدس علیہ السلام سے ملے۔آپ نے اس مہمان اور دوسرے احباب کو مخاطب کر کے مختصر خطاب فرمایا۔حضرت مفتی صاحب لکھتے ہیں: یہ گفتگو ایسی مفید اور کارآمد باتوں پر مشتمل تھی کہ میں نے اکثر فقروں کو اپنی عادت کے موافق اُسی وقت اپنی نوٹ بک میں جمع کیا اور بعد میں مجھے خیال آیا کہ بذریعہ اخبار الحکم میں دوسرے احباب کو بھی اس پر لطف تقریر کے مضمون سے حظ اٹھانے کا موقع دوں۔لہذا ان فقرات کی مدد سے اپنی یادداشت کے ذریعہ میں نے مفصلہ ذیل عبارت ترتیب دی ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 206 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) آپ کے اس مفید شوق سے حضرت اقدس علیہ السلام کے فرمودات محفوظ ہوتے گئے۔اللہ تعالیٰ نے تحریر پر قدرت عطا فرمائی تھی۔خوبی سے قلمبند کیا ہوا یہ خزانہ آئندہ نسلوں پر ایک احسان عظیم ثابت ہوا۔حضرت اقدس علیہ السلام کے شب و روز معمولات طعام ، معمولات سفر اور معمولات سیر غرضیکہ ہر لمحہ آپ کی مشتاق نگاہوں سے دل میں اُتر جاتا اور مشاق قلم سے صفحہ ء قرطاس پر کندہ ہو جاتا۔آپ کے اس شوق کو احکام کی فائلوں کے مطالعہ نے بھی ہوادی۔کتاب نزول مسیح کی تصنیف کے دنوں میں بعض نشانات درج کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مفتی صاحب کو ارشاد فرمایا کہ نشانات کی ایک فہرست بنائیں۔وہ عاشق صادق جو اس تاک میں رہتے تھے کہ خدمت کی راہیں ملیں تو سر دھڑ کی بازی لگا دیں اس کام میں لگ گئے۔اپنی کیفیت اس طرح تحریر فرماتے ہیں: اس کتاب کی تکمیل کے واسطے یہ بھی ضروری سمجھا گیا کہ ان نشانات میں سے بعض کی ایک فہرست اس میں درج کی جائے۔جو حضرت حجتہ اللہ کے ہاتھ پر ظاہر ہو