حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 251
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھے اور صحت اور خوشی کی زندگی کے ساتھ خدمت دین کی مزید توفیق عطا فرمائے۔“ 251 1937ء کے جلسہ سالانہ میں ذکر حبیب کے موضوع پر تقریر میں آپ نے اپنی صحت کی خرابی کا ذکر فرمایا: گو میں ان دنوں سخت بیمار ہوں چار پائی سے ہی لگ گیا ہوں مگر پھر بھی اگر کوئی کام نہیں کر سکتا تو نہ کہی دُعا کرتا ہوں، بہت دُعا کرتا ہوں اپنے لئے، اپنی اولاد کے لئے ، اپنے محبین کے لئے، سلسلہ احمدیہ کے لئے ، حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے لئے ، غیروں کے لئے ، دشمنوں کے لئے ، بیماری کی شدت کی وجہ سے طبیعت میں سوز پیدا ہوتا ہے اور روح پگھل کر آستانہ الوہیت پر بہہ پڑتی ہے اور دُعا کے لئے خوب وقت بھی مل جاتا ہے۔خدا تعالیٰ قبول فرمائے۔اس کے بعد آپ نے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کا دشمنوں سے سلوک کے بارہ میں ایک نہایت ہی عمدہ تقریر فرمائی اور بتایا کہ میرا آقا تو کبھی دشمنوں سے بھی سختی اور کرختگی سے پیش نہیں آتا تھا۔“ الفضل 30 دسمبر 1937ء ص 3) 1937ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ہمراہ شملہ جانے کی سعادت حاصل ہوئی وہاں مہاراجہ الور بھی آگئے۔حضور نے فرمایا۔مفتی صاحب معلوم ہوا ہے کہ ان کے خیالات اچھے ہیں آپ جائیں اور ان کو تبلیغ کریں۔مہاراجہ الور کے دیوان خانے میں آپ چند کتابیں لے کر مہاراجہ الور کی جائے رہائش پر پہنچ گئے۔ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے کہا مہاراجہ صاحب ابھی مصروف ہیں فارغ ہوں گے تو آپ کو بلا لیں گے۔اُس نے آپ کو دیوان خانہ میں بیٹھا دیا۔وہاں دیوان عبد الحمید کپورتھلہ والے اور شملہ کی پہاڑی ریاستوں میں سے ایک ریاست کے راجہ بھی آگئے ، انہیں بھی پرائیویٹ سیکرٹری نے دیوان خانہ میں بٹھا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک انگریز آیا اُس نے کہا کہ میں مہاراجہ کا اسٹرالوجر ہوں۔دیوان عبد الحمید صاحب