حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 181
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 181 گئے۔جلسوں میں تقاریر سے سلسلہ کا تعارف کروایا۔آپ سرد موسم کی وجہ سے وہاں زیادہ عرصہ قیام نہ کر سکے اور واپس لندن تشریف لے آئے۔لندن کی ایک سیر گاہ میں جنگ میں کام آنے والوں کی یاد میں ایک چبوترے پر پھول رکھے جا رہے تھے۔آپ نے اُن احمدیوں کی یادگار کے طور پر جو جنگ میں یعنی اپنی گورنمنٹ کے وفادار رہ کر شہید ہوئے تھے ، گلدستہ رکھا اور اس کے ساتھ ایک موٹے کارڈ پر درج ذیل تحریر لکھ کر رکھی : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله عزیز برادران احمد یہ جنہوں نے محسن گورنمنٹ برطانیہ کی خاطر ایام جنگ میں اپنی جانیں قربان کر دیں کیونکہ انہیں اپنے رُوحانی سردار حضرت نبی اللہ احمد قادیانی ہندی مسیح موعود مہدی موعود کا یہی حکم تھا کہ ہمیشہ اپنی گورنمنٹ کے حق میں فرنبردار اور تابعدار رہیں اور ہر حال میں گورنمنٹ برطانیہ کی خدمت اور امداد کریں۔حضرت نبی اللہ نے پہلے سے اس جنگ کی پیشگوئی کی تھی اور تاج برطانیہ کے لئے دُعائیں کی تھیں کہ وہ کامیاب اور فتح مند ہو۔صد ہانے فرانس، مصر، درہ دانیال، عراق، عرب، وغیرہ کے میدان ہائے جنگ میں لڑائیاں کیں خدا کی رحمت اُن افراد پر جو قتل ہوئے یا زخموں سے فوت ہو گئے۔از طرف مفتی محمد صادق و قاضی عبد الله احمدی واعظان الفضل 21 جنوری 1919 ءصفحہ 7-8 ) اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے ہر موقع سے فائدہ اُٹھانے کی راہیں نکالنا آپ کو خوب سوجھتا تھا۔آغاز 1919ء میں شاہ جارج پنجم اور ملکہ نے فتح کی خوشی میں لندن کا کئی دن دورہ کیا۔لوگ سڑکوں پر کھڑے ہو جاتے تالیاں بجاتے مبارکباد دیتے۔آپ نے اس موقع پر ملکہ ، وزیر اعظم برطانیہ، اتحادی بادشاہوں اور پریذیڈنٹوں کو جو جنگ میں برطانیہ کے طرف دار تھے مبارک باد کے خطوط لکھے جس میں حضرت اقدس علیہ السلام کی تصویر اور تحفۃ الملوک کتاب کے ساتھ ذکر کیا کہ اس