حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 180 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 180

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ کتابت شروع کی۔(خلاصہ از الفضل 12 اکتوبر 1918ء ص 10,11 ) 180 اگست میں دس لیکچر دیئے تین سو کے قریب خطوط لکھے۔بارہ افراد نے دین حق قبول کیا۔خدمت کی توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا انداز دیکھئے۔الفضل 9 نومبر 1918ء کے پرچے میں صفحہ نمبر 2 پر آپ کا ایک خط شائع ہوا: انسانی زندگی بھی عجائبات سے پر ہے۔کہاں قادیان اور کہاں انگلستان۔کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرا کمزور جسم اتنے سمندروں کا سفر طے کرتے ہوئے انگلستان پہنچے گا۔میں نے عربی پڑھی مگر مولویوں میں میں مولوی نہ تھا۔میں نے انگریزی پڑھی مگر انگریزی خوانوں میں انگریزی خوان نہ تھا۔مگر اللہ کے راز اللہ ہی جانے۔وہ چاہے تو ذرے سے پہاڑ کا کام کرائے اور قطرے کو سمندر بنا دے۔میں نے وطن چھوڑا۔ملازمت سرکاری سے استعفیٰ دیا۔قادیان میں جھونپڑا بنا کر بیٹھ گیا۔اُس دن کے انتظار میں جب ایمان کے ساتھ خاتمہ بالخیر ہو اور مسیح کے قدموں میں قبر کی جگہ مل جائے۔ہر جنازہ جس پر مسیح اور اس کے خلفاء نے نماز پڑھی میرے لئے جائے رشک تھا اور ہر قبر کو میں چاہتا تھا کہ یہ میری قبر ہو۔پر یہ میرے خیال کی باتیں تھیں۔اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ ہنوز مجھ سے اپنے دین کی خدمت کے یا کچھ دینی خدمات کا کام میری طرف منسوب کیا جائے۔ہندوستان سے اُٹھا انگلستان لا بٹھا یا جسے کبھی انگریزوں کے ساتھ بحث اور گفتگو کرنے اور اُن کے درمیان کھڑے ہو کر تقریریں کرنے کا کام سپر د کیا گیا۔جو گرمیوں میں بھی عموماً کمرے کے اندر سونے کا عادی تھا اُسے سر د ملک میں رہنے کا حکم ہوا۔یہ خلافت ثانیہ کے فیوض کا کرشمہ ہے کہ نالائق لائق بن رہا ہے اور نابکار کار آمد ہورہا ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔“ 31 اکتو بر کو آپ لندن کے جنوب میں دو سو میل کے فاصلے پر واقع ایک شہر ٹار کی تشریف لے