حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 17
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 17 فدائیت میں پہلے سے آگے اُٹھتارہا۔ایک فنافی اللہ کامیاب و با مراد ہستی کی سیرت و سوانح پر ایک نظر ہمیں عشق کے اسلوب اور جاں نثاری کے آداب سکھا کر دعوت عمل دیتی رہے گی۔آپ جیسے باہمت مجاہدین کو حضرت اقدس علیہ السلام اپنی صداقت کے نشان کے طور پر پیش فرماتے ہیں: الْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةٌ مِّلى ولتصنع على عينى" یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تیری محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالوں گا اور میں اپنی آنکھوں کے سامنے تیری پرورش کروں گا۔یہ اُس وقت کا الہام ہے کہ جب ایک شخص بھی میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تھا۔پھر ایک مدت کے بعد یہ الہام پورا ہوا اور ہزار ہا انسان خدا نے ایسے پیدا کئے کہ جن کے دلوں میں اُس نے میری محبت بھر دی۔بعض نے میرے لئے جان دے دی اور بعض نے اپنی مالی تباہی میرے لئے منظور کی اور بعض میرے لئے اپنے وطنوں سے نکالے گئے اور دُکھ دیئے گئے اور ستائے گئے اور ہزار ہا ایسے ہیں کہ وہ اپنے نفس کی حاجات پر مجھے مقدم رکھ کر اپنے عزیز مال میرے آگے رکھتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ اُن کے دل محبت سے پر ہیں اور بہتیرے ایسے ہیں کہ اگر میں کہوں کہ وہ اپنے مالوں سے بکلی دست بردار ہو جائیں یا اپنی جانوں کو میرے لئے فدا کریں تو وہ طیار ہیں۔جب میں اِس درجہ کا صدق اور ارادت اکثر افراد اپنی جماعت میں پاتا ہوں تو بے اختیار مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اے میرے قادر خدا! در حقیقت ذرہ ذرہ پر تیرا تصرف ہے۔تو نے ان دلوں کو ایسے پر آشوب زمانہ میں میری طرف کھینچا اور اُن کو استقامت بخشی یہ تیری قدرت کا نشان عظیم الشان ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 239-240) بھیرہ کی مٹی سے اُٹھنے والا یہ سنگریزہ کس طرح پاک ہاتھوں میں پروان چڑھتا ہوا آغوش احمد میں آکر قیمتی ہیرا بن گیا۔اس کہانی کا آغاز بے حد مبارک تھا۔وقت صدیوں سے اس جو ہر کی