حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 18
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ پرورش کر رہا تھا۔18 حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت عثمان بن عفان خلیفہ ثالث رضی اللہ عنہ کی نسل سے تھے۔آپ کے بزرگ عرب سے ایران آئے اور پھر سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں پنجاب اور ملتان اور پاکپتن میں مقیم ہوئے اور عموماً حکومت وقت کی طرف سے قاضی کے عہدہ پر سرفراز رہے۔حضرت اور نگ زیب کے زمانے میں اس خاندان کے ایک عالم دین بھیرہ کے مفتی بنے اور یہیں آباد ہو گئے۔“ پیدائش،طفولیت اور بچپن تاریخ احمدیت جلد 9 ص 3) آپ 11 جنوری 1872ء کو صبح ساڑھے چھ بجے بھیرہ میں پیدا ہوئے۔( بھیرہ پہلے ضلع شاہ پور میں تھا اب ضلع سرگودھا میں ہے ) بھیرہ میں مفتیوں کے چار پانچ گھر ایک ہی محلہ میں تھے۔اس لئے وہ مفتیوں کا محلہ“ کہلاتا تھا۔آپ کے والد صاحب کا اسم گرامی مکرم مفتی عنایت اللہ صاحب اور والدہ کا نام حضرت فیض بی بی صاحبہ تھا۔(آپ کے والد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی سے پہلے فوت ہو گئے تھے ) آپ کی والدہ صاحبہ کے دس بچے پیدا ہوئے جو کم عمری میں فوت ہو جاتے تھے۔وہ پیری مریدی کی قائل تھیں۔قبروں مزاروں پر جاتیں منتیں مرادیں مانگتیں مگر مسلسل نامرادی سے مزاروں سے مانگنے سے بدظن ہو کر مالک حقیقی سے مانگنے لگیں۔مولا کریم نے دُعاؤں کو سنا اور مفتی محمد صادق جیسا قابل فخر اور باعمر بیٹا عطا فر مایا۔حضرت مفتی صاحب اپنی پیدائش اور ایام طفولیت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: "خدا کی رحمت اور بخشش ہو حضرت والد صاحب مرحوم اور والدہ مرحومہ پر جن کی توجہ ہمیشہ علماء ، فقراء اور صوفیاء کی صحبت کی طرف رہی اور ہنوز میں ابھی پیدا بھی نہ ہوا تھا کہ والدہ محترمہ اپنے وطن کے زاہدوں اور عابدوں اور درویشوں سے میری صلاحیت کے واسطے خواستگار دُعا ہوا کرتی تھیں۔قرآن خوانی اور درود و وظائف کی آوازوں کے