حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 87 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 87

۸۳ میری تربیت کا ہر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی خیال رہتا لیکن ہر بات اتنے پیار سے اور نرم اندازہ سے کہتے کہ مجھے برا محسوس نہ ہوتا۔جذبات کا خیال بڑی باریکی سے رکھنے بعض اوقات میں نے وہ بات محسوس بھی نہ کی ہوتی تھی لیکن حضور کو اس کا احساس ہوتا کہ شاید اس نے محسوس کیا ہو اور خود ہی اس کا ازالہ کرنے کی کوشش فرماتے۔زندگی کے ہر پہلو پر جب میں نظر ڈالتی ہوں تو یہی محسوس کرتی ہوں کہ حضور اس کے لیے میری کسی نہ کسی رنگ میں ضرور رہنمائی فرما گئے ہیں۔شروع شروع میں جب میں نے گھر والوں سے اور دیگر لوگوں سے ملنا جلنا شروع کیا تو حضور نے مجھے نصیحت فرمائی کہ دیکھو نکر نہیں کرنا لیکن وقار سے رہنا۔“ پردے کا انتہائی خیال تھا اور اس ذمہ داری کا احساس مجھ میں پیدا فرماتے تھے کہ جماعت کی عورتوں کے لئے تم نے ایک نمونہ بننا ہے۔چنانچہ شادی سے پہلے اگرچہ پر وہ تو میں کرتی تھی لیکن وہ اتنا مکمل نہ تھا۔جتنا کہ اُسے حضور کے نزدیک ہونا چاہیئے تھا۔چنانچہ شادی کے بعد میں پہلی دفعہ جب اپنی امی کی طرف گئی تو واپسی پر حضور ساتھ تھے ہیں پردے کے لئے بینک کا استعمال نہ کرتی تھی۔حضور فرمانے لگے ”تمہاری عینک کہاں ہے ؟“ میں نے کہا وہ تو گھر ہے۔فرمانے لگے اچھا پھر دونوں نقاب گرالو۔اور پھر جب ہم پہلی بار اسلام آباد گئے تو حضور نے خود پسند فرما کر میرے لئے گہرے رنگ کے شیشوں والی عینک بنوائی اور اس بات کا خاص خیال رکھا کہ کہیں اس میں سے آنکھیں نظر تو نہیں آتیں۔