حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 88 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 88

۸۴ دستانوں کے متعلق مجھ سے فرمانے لگے کہ منصوره میگیم صاحبہ (نور اللہ مرقدہا پر دے کی خاطر دستانے پہنا کر تی تھیں۔مجھ سے فرمایا کہ حمید (میرے بھائی جو انگلینڈ میں قیام پذیر ہیں) سے کہو کہ وہ تمہارے لئے دستانے لے کر ایر پورٹ پر پہنچے۔پردے کا اتنا زیادہ خیال تھا کہ میں جب درزی سے اپنے کپڑے سلوانے کے لئے نمونہ دیکھ رہی ہوتی تو اس وقت بھی یہی فرمایا کہ ایسے ڈیزائین ہونے چاہئیں جن سے کسی قسم کی بھی بے پردگی نہ ہو۔غرض یہ کہ میری اعلیٰ ترین تربیت کا ہر وقت خیال رہتا۔ایک دن از راه حوصلہ افزائی فرمانے لگے۔میں اس ہیرے کو ہزاروں پہلوؤں سے اس طرح چمکانا چاہتا ہوں کہ دنیا جس طرف سے دیکھے اس میں چمک ہی چمک نظر آئے۔پھر فرمانے لگے : ” میری یہ خواہش ہے کہ تاریخ یہ لکھے کہ اس شخص کی زندگی میں دو عورتیں آئیں اور دونوں ہی عظیم۔میں سوچتی ہوں اگر ہر خاوند کے دل میں اتنی اعلیٰ اور ارفع خواہشات اپنی بیوی کی تربیت کے لئے پیدا ہو جائیں تو پھر عورتوں کی تربیت کا مسئلہ باقی ہی نہ رہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ عورت کی فطرت میں بنیادی طور پر یہ بات موجود ہے کہ وہ اپنے خاوند کو اپنے سے خوش دیکھنا چاہتی ہے۔اور اگر وہ اسے صحیح اور بھر پور پیار دے تو یقیناً وہ اُس کی خوشی کی خاطر اس کی ہر بات ماننے کو تیار ہو جاتی ہے۔پھر یہ آگے مرد کا کام ہے کہ وہ اس کو صحیح راستے کی طرف راہنمائی کرے۔الرجال قوامون على النساء کا ایک مطلب یہ بھی ہے۔