حضرت مرزا ناصر احمد — Page 86
۸۲ حضور کے ساتھ میرا تعلق بیوی کی حیثیت سے اگر چہ بظاہر صرف دو ماہ کے قلیل عرصہ تک رہا۔لیکن یہ تعلق اس قدر گہرا ، اس قدر مضبوط ، اس قدر پیار سے بھر پور اور اتنا بے تکلف تھا کہ بیسیوں سال پرانے رشتے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔حضور نے شروع دن سے ہی مجھ سے یہ فرمایا کہ دیکھو میرے ساتھ تکلف بالکل نہیں کرنا جب تک بے تکلفی نہیں ہو گی ہم اپنا کام صحیح طور پر نہیں کر سکتے میرے پاس تمہاری TRAINING کے لئے صرف ڈیڑھ دو ماہ ہیں۔اس عرصہ میں میں نے تمہاری مکمل تربیت کرنی ہے۔میں تمہیں اپنی ذات کے اندر اس طرح FITIN کرلوں گا جس طرح NUT کے اندر SCREW فٹ ہو جاتا ہے حضور کی خواہش تھی کہ میں جلد سے جلد تربیت حاصل کر کے خدمت دین حق میں آپ کا پورا پورا ساتھ دوں۔مجھے سکھاتے بھی تھے اور جب میں آپ کی خواہش کے مطابق کوئی کام کرتی تو بہت خوش ہوتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔حضور میں یہ خاص بات دیکھی کہ چھوٹی سے چھوٹی خوبی کو بھی ضرور APPRECIATE فرماتے۔حضور کا حسن سلوک اپنے اہل خانہ کے ساتھ قابل رشک حد تک خوبصورت تھا۔مجھے وہ الفاظ نہیں ملتے جن سے میں اس کا نقشہ کھینچ سکوں۔لیس انشا کہ سکتی ہوں کہ چاروں طرف پیار ہی پیار تھا۔شفقت ہی شفقت تھی اور اس کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔اتنا گہرا اور شدید پیار اور انی شفقت کہ عام انسان تو اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔کب اوقات میں خود حیران رہ جاتی تھی۔