حضرت مرزا ناصر احمد — Page 140
ہی بلا ہے۔آپ کی اس بات سے میرے ذہن میں اپنی ساری سوچ گھوم گئی۔اور میں ان سے کچھ نہ کہ سکی۔آپ میں تحمل اور یہ داشت بہت تھی۔میری نادانیوں کو بھی محبت سے برداشت کر تھے ایک روز مجھ سے کہا :- بعض دفعہ تم بالکل بچوں جیسی حرکت کرتی ہو گا۔اور ایک دفعہ یہ کہا۔" بعض دفعہ تم بالکل دس سال کے بچے جیسی حرکت کرتی ہو گیا لیکن ساتھ ہی ہنس کر یہ کہہ دیتے :۔BUT I ENJOY IT اور اور میں مطمئن رہتی۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر متفی کامل کی طرح بے پناہ تو کل تھا۔آپ نے فرمایا :- میں نے زندگی میں کبھی کسی انسان سے کچھ نہیں مانگا " توکل علی اللہ کی اس بے مثال دولت سے مجھے بھی حصہ دے گئے۔ایک مرتبہ جب ہم پہلی مرتبہ اسلام آباد گئے تو مجھے ایک چیز کی ضرورت پیش آئی۔میں نے آپ سے اسے منگوانے کے لئے کہا۔آپ نے اسے منگوانے کے لئے ہدایات دیں۔لیکن مطلوبہ چیز مل نہیں رہی تھی۔آپ نے مجھ سے ذکر نہ کیا اور کوشش کرواتے رہے۔اسی روز شام یا شاید اگلے روز وہ چیز تحفہ کوئی سے آیا۔- آپ نے میرے بھائی سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور پھر بڑی سنجیدگی سے فرمایا : - " خدا اسے بھی نئی نہیں دے گا اور اس کی سب ضردر تمیں خود پوری کہ لگا یہ اور یہ حقیقت ہے کہ میں نے دن رات لمحہ بہ لمحہ اس بات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔اور محسوس کیا ہے کہ خدا تعالیٰ خود میری ساری ضرورتیں پوری کرتا چلا جاتا ہے۔ایسے اوقات میں