حضرت مرزا ناصر احمد — Page 139
۱۳۱ پیابی لاتی۔حضور نماز ظہر یا اکثر نماز عصر کے بعد تھوڑی دیر کے لئے زیر تعمیر نئے قصر خلافت چلے جاتے اور عمارت کی تعمیر کا معائنہ فرماتے۔ہدایات وغیرہ دیتے۔ایک روز قصر خلافت کے صحن میں لگے ہوئے ایک درخت کی چھوٹی سی پہنی ہاتھ میں پکڑے کمرے میں آئے۔اس پر سبز رنگ کے چھوٹے چھوٹے بیچ کالی مرچ کی شکل اور سائز کے لگے ہوئے تھے۔فرمانے لگے یہ کالی مرچ سے ملتے ہیں۔میں نے چکھنے کے لئے فوراً ایک دانہ منہ میں ڈال لیا کہ دیکھوں ذائقہ بھی کالی مرچ جیسا ہے یا نہیں۔آپ بہت گھبرائے اور بغیر علم کے ہر چیز کو یوں منہ میں ڈالنے سے منع فرمایا۔انسانی نفسیات کو آپ کتنا سمجھتے اور اس کا کتنا احساس فرماتے تھے اس کا اندازہ آپ کی اس بات سے ہو سکتا ہے۔ایک روز ناشتے پر جب میں آپ کے لئے چائے بنا رہی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا یہ ہر عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کی زندگی میں سرے “ میں نے جب آپ کی یہ بات سنی تو آپ کو دیکھا اور خاموش رہی اور چائے بناتی رہی۔آپ نے بھی خاموشی سے مجھے دیکھا اور مزید کچھ نہ فرمایا۔میں اس وقت ان کی یہ بات سن کر ڈر گئی۔کیونکہ شادی سے چند روز قبل میرے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی تھی۔لیکن ساتھ ہی میرے دل و دماغ میں حضور کی اس کیفیت کا نقشہ آیا۔جو حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی وفات پر آپ کی تھی۔جب میرے تصور میں آپ کی وہ حالت آئی تو مجھ سے برداشت نہ ہوا۔کہ ایک مرتبہ پھر آپ اسی کرب میں سے گزریں۔اس لئے میں نے سوچا کہ اچھا ئیں یہ تکلیف برداشت کر لوں گی لیکن اللہ تعالیٰ پھر مجھے بھی جلد