حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 141 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 141

۱۳۳ مجھے اللہ تعالیٰ کے احسانوں کے شکر کے ساتھ ان کی محبت بھری یاد بھی ضرور آتی ہے اور نظروں میں آپ کا وہ چہرہ آجاتا ہے۔مجھے یاد ہے یہ بات کہتے ہوئے آپ کا لہجہ اور چہرے کا ناثمہ بالکل بدل گیا تھا۔بہت الفصل اسلام آباد کے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے ہوئے آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی۔میری چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا بھی بہت احساس فرما تھے اور اس طرح خاموشی سے خیال رکھتے کہ بہت سی باتوں کا تو مجھے بعد میں پتا چلا۔ایک روز رات کو آپ نے مجھے سپین کا بنا ہوا جوس پینے کے لئے دیا۔مجھے وہ بہت اچھا لگا۔اگلے روز سے خود ہی کہہ کہ میرے لئے کمرے میں جوس پینے کے لئے برتن رکھوانے شروع کر دیئے سب سے زیادہ حیرت تو مجھے اس وقت ہوتی جب آپ بیمار تھے۔کمرے میں اور کوئی نہ ہوتا پھر بھی اگر میں نے کسی چیز پر پسند کا اظہار کیا ہوتا تو وہ میرے لئے موجود ہوتی۔مجھے پتہ بھی نہ چلتا کہ آپ کب کسی آنے والے سے اس کا کہہ دیتے۔آپ کے لئے باہر سے کچھ کھانے کی اشتہار آئیں میں نے اس خیال سے پہلے انہیں چکھا کہ جو زیادہ اچھا ہو وہ آپ کو دوں۔میں نے چائے پھر آپ کو دیتے ہوئے کہا یہ بہت اچھا ہے۔مجھے پتہ نہیں چلا آپ نے کب کس سے کہا کہ وہ اس SNACK کو خاص طور پر میرے کمرے میں رکھ جائیں۔پھر اپنی علالت میں بھی میری پسند کے پیش نظر خاموشی سے میرے لئے تربوز اور چینی کھانا منگوایا۔اور اپنا یہ عالم تھا کہ بے انتہا قدر کرنے والی طبیعت میری تھوڑی خدمت کو بھی بہت سمجھتے۔ایک عزیزہ سے فرمایا۔" انہوں نے ایک رات میں میری ایک سال جتنی خدمت کی ہے۔" مجھے سے فرمایا " یہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرا اتنا کام کرتے ہیں۔ان دنوں میں میرے