حضرت مرزا ناصر احمد — Page 114
حکم کی خلیفہ وقت کی ذات کو اللہ تعالی اعطا کرتا ہے۔عام علماء کا وہ حصہ نہیں۔اور یہ شان بھی خدا تعالیٰ کے پیاروں کی ہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اعمال اس نقطہ نظر سے نہیں کرتے کہ دیکھنے یا سننے والے کیا کہیں گے بلکہ صرف اور صرف پوری دیانتداری سے ہر پہلو سے خدا تعالیٰ کی رضا کو مد نظر رکھتے ہیں۔میں نے حضور سے شادی کے غالبا دوسرے روزہ کہا کہ مجھے صبح نمانہ کے لئے جگا دیا کریں۔آپ نے اگلے روزہ مجھے جگایا میں اُٹھی۔نماز پڑھی۔قرآن شریف پڑھا اور دوبارہ سوگئی۔بس ایک ہی روز آپ نے مجھے جگایا اور پھر نہ جگایا۔میں صبح اپنی نیند پوری کر کے اٹھتی اور قضا نماز پڑھتی۔ایک روزہ اسلام آباد میں میں نے ان سے کہا " آپ مجھے نما نہ کے لئے جگاتے نہیں ؟ آپ خاموشی سے میری طرف دیکھتے رہے اور پھر کچھ نہ فرمایا۔میں بھی چپ رہی۔لیکن پھر اس کے بعد بھی آپ نے مجھے نہ جگایا۔چونکہ آپ کا معمول ایسا تھا کہ آپ رات کو دیر سے سوتے تھے اور میں بھی ساتھ جاگتی تھی۔آپ کو کم سونے کی عادت تھی لیکن میری نیند پوری نہ ہوتی تھی اس لئے آپ مجھے صبح نہ جگاتے۔راسی طرح ایک مرتبہ حضور کے ایک غیر احمدی سرد نیز نے اسلام آباد میں ہماری دعوت کی۔وہاں مغرب کی نمازہ کا وقت ہو گیا۔اہل خانہ نما نہ پڑھنے کے لئے چلے گئے۔حضور نے وہاں نما نہ نہ پڑھی اور واپس گھر آکر عشاء کی نمانہ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اور مجھ سے فرمایا۔" نمازہ اس وقت پڑھنی چاہیے جب اس کی طرف پوری توجہ ہو یہ شادی کے غالبا تفسیر سے دن مجھ سے فرمایا۔