حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 115 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 115

If آج صبح جب تم سو رہی تھیں اور میں نے تمہیں دیکھا تو میں نے اپنے رب سے ایک عہد کیا کہ میں اسے اپنی زندگی میں کبھی دُکھ نہیں دوں گا۔خواہ کیسی ہو۔اور پھر میں نے تمہارے لئے بہت دُعا کی۔اتھی ملنے آئیں تو ان سے بھی کہا کہ میں نے اپنے رب سے عہد کیا ہے کہ میں اسے کبھی دکھ نہیں دوں گا۔اور یہ کہ میں نے اس کے لئے بہت دُعا کی ہے۔یہ بوں میں ایک روز میں مغرب کی نماز پڑھ رہی تھی۔نمازہ میں ایک معمولی سا دردناک خیال آیا اور میں رو پڑی۔آپ مغرب کی نماز پڑھ کر کمرے میں آئے۔مجھے دیکھا تو عجیب تا شمر آپ کی آنکھوں میں آیا مجھ سے رونے کی وجہ تونہ پوچھی لیکن آپ کی آنکھوں میں اس وقت جو سوال اور درد کا احساس تھا اُسے میں کبھی نہ بھلا سکوں گی۔بہت دن گزر جانے کے بعد ایک دن جب ہم اسلام آباد میں تھے تو آپ فرمانے لگے۔" میں آج تک نہیں سمجھے سکا کہ اس دن تم نماز میں کیوں روئی تھیں۔میں حیران رہ گئی اور دل میں سہم بھی گئی کہ وہ تو اتنی معمولی بات تھی۔اگر ان کو پتہ چل گیا تو کہیں مجھے ڈانٹ ہی نہ دیں۔کہ اتنی بے کا ربات کے لئے اتنی دیر پر یشان رکھا۔اس لئے میں نے خاموشی ہی میں خیریت جانی لیکن اب بہت افسوس ہوتا ہے کہ بتا دیتی تو اچھا ہی تھا۔انہوں نے بھلا کیا ناراض ہونا تھا۔البتہ ان کے دل کا بوجھ تو اتر جاتا۔پتہ نہیں آپ کو کیا کیا دہم آئے ہوں گے۔آپ بہت، فراخ طبیعت کے مالک تھے اور بخل سے طبعا نفرت تھی۔ایک دو واقعات جن سے بخل کی بو آتی تھی ان کا ذکر آپ نے میرے ساتھ ناپسندیدگی