حضرت مرزا ناصر احمد — Page 113
1۔9 کریں اور اچھی طرح سے انہیں یہ بات کہنا کہ شاہراہ غلبہ دین حق پر آگے ہی آگے بڑھتی چلی جائیں (قریب یہی مفہوم تھا)۔میں نے دل میں سوچا کہ مجھے صرف ایک ہی بات بتائی ہے۔اب میں سارا جواب کیسے دوں گی۔لیکن خاموش رہی اور آپ یہ بات کہہ کر اطمینان سے اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔رات کو اکثر افراد خاندان حضور سے ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے اور ان سے مل کر جب ہم اپنے کمرے میں آرہے تھے اُس وقت با جی جان دختر یا جزاری ناصرہ بیگم صاحبہ نے حضور سے کہا کہ " آج یہ بہت اچھا بولیں " آپ چلتے چلتے ڑکے اور واپس مڑکر فرمایا یہ ہاں میں نے دُعا کر کے جو بھیجا تھا۔ابھی تو یہ بہت بوسے گی " میرا ایک سرٹیفیکیٹ دیکھ کو فرمایا۔تم DEBATES بھی کرتی رہی ہو ؟ میں نے کہا۔جی۔اور پھر آپ نے دو تین مرتبہ مجھے مستقبل میں تقاریر کرنے کے لئے فرمایا تو میں نے جواب دیا کہ مجھے تقریر لکھنا نہیں آتی۔مجھے تو میر سے گھر والے لکھ دیتے تھے اور میں کر لیتی تھی۔آپ نے فرمایا " اب میں خود تمہیں پوائنٹس دیا کروں گا چھوٹی آپا کو بھی تو حضرت مصلح موعود خود پوائنٹس دیا کرتے تھے۔ایک واقعہ جو میں لکھنے لگی ہوں وہ قارئین کو شاید عجیب لگے اور سرسری نظر سے پڑھنے کے بعد اس کی باریکی کو نہ سمجھ سکیں لیکن میں صرف اس لئے لکھ رہی ہوں تاکہ خلیفہ وقت کی فراست اور ان کے اعمال میں پوشیدہ حکمت کے اند تا امر بالمعروف" کے صحیح معنوں کی نشاندہی ہو سکے۔جو معرفت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے