حضرت مرزا بشیر احمد ؓ — Page 19
افطاری میں خود نہ کروں بلکہ باہر سے میرے لئے افطاری کا سامان آئے۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ پورے 30 روزوں کی افطاری آپ کو باہر سے آئی۔آپ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کا شکر بجالاتے اور اس کی رضا پر راضی رہتے۔آپ فرماتے ہیں: میں نے اپنے دل کے سارے گوشوں میں جھانک کر اور کونے کونے کا جائزہ لے کر آخر یہی نتیجہ نکالا کہ میں خدا کے فضل سے اور اس کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ اپنے خدا اور اس کی ہر تقدیر پر پورے شرح صدر کے ساتھ راضی ہوں۔“ الفضل 13 نومبر 1951 ، صفحہ 4) آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود سے عشق آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کو انتہا درجہ کا عشق تھا۔آپ کے بڑے بیٹے حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں: آپ کا طریق تھا کہ گھر کی مجالس میں احادیث ، نبی کریم ﷺ کی زندگی کے واقعات اور حضرت مسیح موعود کی زندگی کے حالات اکثر بیان فرماتے رہتے تھے۔میرے اپنے تجربے میں یہ ذکر سینکڑوں مرتبہ کیا ہوگا۔لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی ایک مرتبہ بھی نبی کریم ﷺ یا حضرت مسیح موعود کے ذکر سے آپ کی آنکھیں آبدیدہ نہ ہوئی ہوں۔بڑی محبت اور سوز سے یہ باتیں بیان فرماتے تھے اور پھر ان کی روشنی 19