حضرت مرزا بشیر احمد ؓ — Page 11
اس کے علاوہ آپ نے جماعت کی مختلف رنگ میں خدمات کی توفیق پائی۔دینی خدمات کا شوق اور فرائض کی ادائیگی کی ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ ستمبر - 1924ء میں آپ کے پاؤں پر پھنسیاں نکل آئیں جن کی وجہ سے جوتا پہننا آپ کیلئے مشکل ہو گیا مگر آپ کی سادگی اور اپنے کام میں انہماک کا یہ عالم تھا کہ آپ ننگے پاؤں ہی دفاتر میں اِدھر اُدھر جاتے رہے۔بحیثیت ناظر تعلیم و تربیت آپ نے اس امر کی پُر زور تحریک فرمائی کہ دوستوں کو اپنے گھروں میں بھی قرآن شریف اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود کا درس جاری کرنا چاہیے۔آپ نے تحریر فرمایا: بہترین وقت صبح کی نماز کے بعد کا ہے لیکن اگر وہ مناسب نہ ہو تو جس وقت بھی مناسب سمجھا جائے اس کا انتظام کیا جائے۔اس کے موقع پر گھر کے سب لوگ مرد، عورتیں ، لڑکے، لڑکیاں بلکہ گھر کی خدمت گاریں بھی شریک ہوں اور بالکل عام فہم سادہ طریق پر دیا جائے اور درس کا وقت پندرہ بیس منٹ سے زیادہ نہ ہوتا کہ طبائع 66 میں ملال نہ پیدا ہو۔۔۔۔۔۔۔علمی خدمات الفضل 16 مارچ 1928 ء ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب قمر الانبیاء نے بے پایاں علمی وادبی خدمات بھی سر 11