حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 7
11 10 انہی دنوں یعنی ۱۸۸۲ء میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ خبر تھے اور خود ہی نماز پڑھایا کرتے تھے۔صرف دو تین مقتدی ہوا کرتے تھے۔ان میں دی تھی کہ لوگ تیرے پاس دور دور سے آئیں گے اور تیری مدد کرنے والے وہ لوگ حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب بھی شامل ہوا کرتے۔ہوں گے جن کو آسمانی تحریک ہوگی۔( براہین احمدیہ جلد سوم طبع اوّل صفحه ۲۴۰ ) روزنامه الفضل قادیان ۲۶ ستمبر ۱۹۱۶ء) اس زمانے میں حضرت منشی عبد اللہ سنوری صاحب کو رات دن حضرت مسیح چنانچہ فی الواقعہ اس خدائی بشارت کے ماتحت آپ کی زیارت اور خدمت موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس رہنے کا بہت زیادہ موقع ملتا۔حضور انور دن کو میں حاضر ہونے والے اولین دوخوش قسمت افراد میں سے ایک مولوی عبداللہ سنوری (بیت) مبارک کے حجرہ یعنی بیت الفکر میں اور رات کو بالعموم ( بیت ) مبارک کی چھت پر آرام فرمایا کرتے تھے۔اکثر ایسا بھی ہوتا کہ رات کو صرف منشی عبد اللہ سنوری صاحب تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب سنور واپس تو چلے گئے لیکن دل میں حضور سے سچا عشق پیدا ہو گیا تھا۔جب بھی موقع ملتا کرایہ وغیرہ جمع ہوتا ، فوراً قادیان چلے آتے۔اور کئی کئی ماہ تک خصوصاً ماہ رمضان میں تو ضرور حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر رہتے۔جب کبھی حضور زیاد و مصروف ہوتے تو منشی عبد اللہ سنوری صاحب کو خط تحریر فرما کر قادیان بلا لیتے تھے۔آپ بھی خط ملتے ہی فورا روانہ ہونے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔اور حضور کی صحبت سے فیضیاب ہونے کی توفیق پایا کرتے۔جس قدر زیادہ عرصہ حضور کی خدمت میں گزرتا حضور علیہ السلام سے آپ کا عشق اور آپ سے حضور علیہ السلام کی اُلفت و محبت بڑھتی چلی جاتی۔ان ایام میں حضور علیہ السلام پانچ مرتبہ اول وقت میں ( نداء) دیا کرتے صاحب ہی حضور کے پاس ہو ا کرتے۔آپ کی خواہش تھی کہ آپ دنیا کے کاروبار سے بالکل منقطع ہو کر قادیان ہی کے ہو کر رہ جائیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف صورتوں میں کاروبار اور تعلقات ملازمت قائم رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ایک قلیل تنخواہ کے ملازم ہونے کے باوجود آپ دو دو تین تین ماہ قادیان آ کر ٹھہرتے۔آپ خود فرماتے ہیں: میں حضرت صاحب کی خدمت عالی میں چونکہ عرصہ تک رہا کرتا تھا اس واسطے حضور کو جب کسی کام کے واسطے امرتسر یالا ہور بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو مجھے بھیج دیا کرتے تھے۔اور خرچ کافی دے دیتے۔واپسی کے وقت کبھی حساب نہیں مانگتے تھے۔میں خود حساب بنا کر پیش کر دیا کرتا تھا۔“ (ماہنامہ انصار اللہ مارچ ۱۹۹۰ ء )