حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 8
13 12 بیعت کی خواہش حضرت منشی عبد اللہ سنوری صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شرف باریابی حاصل کرنے کے بعد سے حضور کی بیعت کرنے کے خواہشمند تھے۔تشریف لے گئے۔جہاں حضرت منشی عبد اللہ سنوری کے گھر کو بھی اپنے قدم مبارک سے برکت بخشی۔دو پہر کا کھانا وہاں تناول فرمایا۔تجلی قدرت صفحه ۴) اُس وقت حضرت عبد اللہ سنوری صاحب کے دادا محمد بخش صاحب کو بھی لیکن چونکہ حضور کو ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا حکم نہ تھا۔اور طبعا بھی یہ حضور حضور اقدس سے مصافحہ کا شرف حاصل ہوا۔بعد ازاں حضور پٹیالہ سے ہوتے ہوئے کے مزاج کے موافق نہ تھا۔اس لئے حضور اس پر راضی نہ ہوئے۔حضرت عبد اللہ سنوری صاحب فرماتے ہیں: ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ حضرت مجھے بیعت کر لیں۔فرمایا نہیں اور فرمایا کہ میاں عبد اللہ پیر بنا بہت مشکل کام ہے۔اور میں اس سے گھبراتا ہوں اور سخت کراہت بھی آتی ہے۔پیر کو اپنے مریدوں کے گند اندرونی ہاتھ سے دھونے پڑتے ہیں۔گویا پیر کو بھنگی کا کام کرنا پڑتا ہے۔مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔مگر کیا خبر تھی کہ حضور کے ہی کام سپرد ہوگا۔" (ماہنامہ انصار اللہ مارچ ۱۹۹۰ ء ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پہلا سفر سنور واپس انبالہ چھاؤنی روانہ ہو گئے۔اس سفر میں حضرت منشی عبد اللہ سنوری صاحب کو بھی حضور کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوا۔تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحه ۲۳۹) حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب کی خصوصی ذمہ داری مارچ ۱۸۸۵ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جب خدا تعالیٰ کے حکم سے امام الزمان اور مجدد وقت ہونے کا دعویٰ فرمایا تو حضرت عبداللہ سنوری صاحب کے ایمان کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔اس دعوی کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مذاہب عالم کے لیڈروں کو الہی بشارتوں کے تحت نشان نمائی کی دعوت دی کہ اگر وہ طالب صادق بن کر آپ کے پاس قادیان آ کر ایک سال تک قیام کریں تو وہ ضرور اپنی آنکھوں سے ۱۸۸۴ء میں حضور نے انبالہ چھاؤنی کا سفر اختیار فرمایا جہاں آپ کے خسر دین حق کی حقانیت کے چمکتے ہوئے نشان مشاہدہ کر لیں گے۔اور اگر ایک سال رہ کر حضرت میر ناصر نواب صاحب مقیم تھے۔سنور کے مخلصین کو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی وہ آسمانی نشان سے محروم رہ ہیں تو انہیں دو سو روپے ماہوار کے حساب سے چوہیں حضور کی خدمت میں ایک وفد بھیجوایا جس میں منشی عبد اللہ سنوری صاحب بھی شامل تھے۔منشی صاحب کی درخواست پر حضور واپسی کے وقت پٹیالہ کے راستے سنور بھی سوروپے بطور ہر جانہ پیش کیا جائے گا۔اس دعوت کی عالمگیر اشاعت کے لئے خدائی تحریک کے مطابق حضرت مسیح