حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 6
9 8 کیا کہ یہ ایک موحد بزرگ ہیں تو آپ نے بیعت کرنے میں تامل نہ کیا۔مولوی عبداللہ غزنوی صاحب نے آپ کی روحانی تربیت۔۔۔۔کی۔مُرشد کامل کی تلاش (روز نامه الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۲۷ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلی ملاقات یہ ۱۸۸۲ ء کی بات ہے۔آپ کی عمر اس وقت ۲۰ ۲۱ سال تھی۔قادیان پہنچنے پر مولوی عبد اللہ سنوری صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے۔حضور اس وقت ایک چھوٹے سے حجرے جس میں دس پندرہ افراد مولوی عبداللہ غزنوی صاحب کی بیعت کرنے کے بعد بھی مولوی عبد اللہ سے زیادہ کی گنجائش نہ تھی یعنی بیت الفکر میں تشریف فرما تھے ( تجلی قدرت مؤلفہ الحاج سنوری صاحب کی طبیعت میں بیقراری اور اضطراب باقی تھا۔اور آپ دیگر اولیاء اللہ مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب صفحہ ۳) اور قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے۔مولوی کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے۔آپ کے ماموں مولوی محمد یوسف صاحب بھی عبد اللہ سنوری صاحب نے السلام علیکم عرض کر کے مصافحہ کیا۔حضور کا چہرہ مبارک آپ کی اس روحانی تحقیقی کو خوب جانتے تھے۔انہیں نہایت ہی پیارا اور نورانی محسوس ہو ا جسے دیکھتے ہی اُن کے دل میں عشق کی آگ انہیں آرہ یعنی بہار میں ایک بزرگ ہستی کا علم ہوا۔تو انہوں نے اپنے بھڑک اٹھی۔اس بارے میں آپ خود فرماتے ہیں کہ میری ہدایت کا موجب صرف بھانجے مولوی عبد اللہ سنوری صاحب کو آرہ جانے کا مشورہ دیا۔آپ تو گویا ایسے مشورہ حضور کا چہرہ مبارک ہی ہوا۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔آپ کہاں کے انتظار ہی میں رہا کرتے تھے۔مشورہ ملتے ہی اُدھر روانگی کا ارادہ کر لیا۔لیکن پھر آپ کے ماموں نے آپ کو بتایا کہ قادیان میں ایک بزرگ نے ایک کتاب لکھنا شروع کی ہے اور اس پر دس ہزار روپے انعام رکھا ہے۔اور یہ بھی کہا سے آئے ہیں اور کیا نام ہے؟ عرض کیا: سنور متصل پٹیالہ سے۔عبداللہ نام ہے۔حضور اقدس کی مبارک صحبت میں تین روز رہ کر اجازت لے کر واپس روانہ کہ معلوم ہوتا ہے یہ شخص کوئی بڑا کامل ہے۔اگر زیارت کرنے کیلئے جانا ہے تو اسی کے ہوئے۔جب بٹالہ پہنچے تو دل ایسا بے قرار ہوا کہ پھر قادیان چلے آئے۔حضور نے پوچھا کیوں واپس آگئے۔عرض کیا حضور جانے کو دل نہیں چاہتا۔مُسکر ا کر فرمایا کہ اچھا پاس جاؤ۔مولوی عبد اللہ سنوری صاحب نے اپنے بزرگ ماموں کا یہ مشورہ سن کر آرہ اور رہو۔اس کے بعد قریباً ایک ہفتہ اور حضور کی صحبت میں رہے۔ان ایام میں قادیان جانے کا خیال ترک کر دیا اور دل میں کچھ ایسا ولولہ اٹھا کہ جس جگہ یہ مشورہ انہیں ملا ایک انتہائی بے رونق گاؤں تھا۔بہت کم آدمی چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔بازار بھی وہاں سے وہ گھر بھی نہ گئے بلکہ قادیان کی طرف روانہ ہو گئے۔بٹالہ ٹیشن پر ریل گاڑی خالی اور بے آباد تھے۔دراصل دکانیں ہی بہت کم تھیں۔بعض تو ٹوٹی پھوٹی اور بعض سے اتر کر رات وہیں رہے اور علی اصبح وہاں سے پیدل چل کر قادیان پہنچے۔غیر آباد۔چھوٹی چھوٹی ضرورت کے لئے لوگوں کو گیارہ میل دور بٹالہ جانا پڑتا تھا۔لیکن