حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ

by Other Authors

Page 5 of 26

حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 5

7 6 حاصل کرنے کے بعد آپ کچھ عرصہ مہندرا سکول میں پڑھتے رہے۔جہاں آپ کی نکلنے لگے۔تو جھپٹ کر ان کو اندر پکڑ لائے۔اور فرمایا کہ ان تمام روپوں کو اکٹھا کرو۔ریاضی دانی کا خوب شہرہ تھا۔جس طالب علم کو کوئی مشکل پیش آتی وہ آپ کے پاس آ ان بے چاروں نے بڑی شرمندگی کی حالت میں روپے اکٹھے کئے۔پھر حکم دیا کہ اب کر سوال حل کروالیتا تھا۔بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد خاندانی رواج کے مطابق ان کو گنو اور اپنی رقم پوری کرو اور کوئی ایک روپیہ بھی صحن میں نہیں رہنا چاہئے۔پھر فرمایا آپ نے بھی عملی زندگی کے لئے مال ہی کے محکمہ کو پسند کیا۔ریاست پٹیالہ کے کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں چار دن کے بعد آ کر تمہارا کام کر دوں گا۔تو تم نے یہ نو گاؤں تحصیل پائل اور غوث گڑھ میں پٹواری رہے۔حرکت کیوں کی۔اس کے بعد وعدہ کے مطابق ان کے ہاں تشریف لے گئے اور ان کی آپ جس محکمہ میں ملازم تھے اس محکمہ کے اکثر لوگ نا جائز ذرائع سے زمین کی صحیح پیمائش کر آئے۔اپنا دو پہر کا کھانا گھر سے ساتھ لے کر گئے تھے۔روپیہ پیسہ ہور تے تھے۔لیکن آپ کو رزق حلال پسند تھا چنانچہ بھی اور کسی حال میں یہ محکمہ آپ کے لئے ناجائز منفعت یا تحریص کا محرک نہ ہوا۔بلکہ آپ کا حال ابتدائی مسلک و تربیت یہ تھا کہ بحیثیت پٹواری جب آپ اپنے حلقے میں جاتے تو زمینداروں سے اپنی گھوڑی کے لئے چارہ بھی نہ لیتے تھے۔حالانکہ زمیندار خود چارہ پیش کرتے لیکن آپ انکار کر دیتے۔(ماہنامہ انصار اللہ مارچ ۱۹۹۰ء صفحہ ۵۵) حضرت عبد اللہ سنوری صاحب ابتدا میں اہلحدیث تھے۔جہلم وغیرہ کی رسم کے سخت مخالف تھے۔بدعات سے متنفر تھے۔اور کسی کامل بزرگ کی تلاش میں لگے خدمت اقدس میں کھینچ لائی۔حضرت عبد اللہ سنوری صاحب کے ماموں مولوی محمد یوسف صاحب مرحوم کو رہتے تھے۔یہ تڑپ آپ کو ہر وقت بے قرار رکھتی تھی۔اور دراصل صحبت صالحین کی چوہدری عطا محمد صاحب والد محترم چوہدری محمد ابراہیم صاحب ( سابق مینجر یہی تڑپ، نیک فطرت اور اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی محبت آپ کو امام الزمان کی ماہنامہ انصار اللہ ربوہ ) بیان کرتے ہیں کہ کسی گاؤں کے دو تین آدمی اپنی زمین کی پیمائش کے لئے حضرت منشی صاحب کے پاس آئے۔حضرت منشی صاحب نے تین چار روز کے بعد آنے کا وعدہ فرمایا۔اُن آدمیوں نے رقم دیتے ہوئے عرض کی کہ یہ رقم آپ سے خاص محبت تھی۔وہ آپ کی روحانی تربیت کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے نہ قبول فرمالیں۔بس ان کا اتنا کہنا تھا کہ حضرت منشی صاحب کا چہرہ غصہ سے سُرخ ہو جانے دیتے تھے۔انہوں نے ہی آپ کو مشورہ دیا کہ امرتسر میں مولوی عبداللہ صاحب گیا اور جس بانسی میں رقم رکھ کر پیش کی گئی تھی۔اُسے اپنے گھر کے صحن میں زمین پر غزنوی کی خدمت میں حاضر ہوں جن کی بزرگی کا ان دنوں خوب چرچا تھا۔اور لوگ دے مارا۔چاندی کے روپے تھے۔ادھر ادھر بکھر گئے اور فرمایا کہ مجھے سو رکھلا نا چاہتے ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت منشی صاحب بھی ان کی ہو۔وہ آدمی حضرت منشی صاحب کے غصے کی تاب نہ لا کر جلدی جلدی گھر سے باہر خدمت میں حاضر ہو کر تین چار روز ان کی صحبت میں رہے۔اور جب آپ نے محسوس