حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 4
5 4 یوسف صاحب ہی بنے۔پھر ایک اور عظیم خوش بختی آپ کی یہ ہے کہ رب دو جہان نے اپنے پیارے سنوری صاحب کی روحانی تربیت کے لئے کوئی نہ کوئی پروگرام بناتے رہتے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کے کئی معاملات کے بارہ میں الہاما آگاہ فرمایا۔تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات کا باعث بھی یہی مولوی محمد ایں سعادت بزور بازو نیست خدا کے پاک مسیح نے متعدد مقامات پر اپنی زبان مبارک سے، پھر اپنی کتب حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب کا خاندان گو ایک زمیندار خاندان تھا اور خطوط میں آپ کے اخلاص اور محبت کا شیریں تذکرہ کر کے دوسرے افراد جماعت لیکن اس خاندان کے لوگ زمینداری کے علاوہ علم دوستی کی بناء پر تعلیم حاصل کر کے کو آپ کا نیک نمونہ اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔بالعموم بند و بست یا مال کے محکمہ میں ملازمت کیا کرتے تھے۔بچپن پیدائش و خاندانی حالات حضرت عبداللہ سنوری صاحب کی پیدائش ۱۸۶۱ء میں ہوئی۔آپ بچپن سے ہی آپ خاموش طبع تھے۔مجلس میں بیٹھ کر زیادہ باتیں کرنے کے ہندوستان کی ریاست پٹیالہ تحصیل سرہند کے قصبہ سنور کے رہنے والے تھے۔یہ قصبہ عادی نہ تھے۔آپ اپنے کام میں منہمک رہتے۔دوسروں کی ہمدردی کے لئے خاص پٹیالہ سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔جوش تھا۔مخلوق خدا میں جانوروں تک سے نہایت ہمدردی کے ساتھ پیش آتے۔آپ کے والد صاحب کا نام کریم بخش اور دادا کا نام محمد بخش صاحب تھا۔اوائل میں ان کی عادت میں داخل تھا کہ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ریزے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ سنوری صاحب نے اپنے والد صاحب کی کچھ بد عادات کا ( بھورے) بنا کر چڑیوں کو ڈالا کرتے تھے۔یہ عادت رفتہ رفتہ اس قدر ترقی کرتی گئی ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا تو حضور نے والد صاحب کے متعلق کہ آپ اپنے ہاتھوں اور جھولی میں ان ریزوں کو رکھتے اور چڑیاں آپ کے شانوں اور ایسا کہنے سے آپ کو منع فرمایا۔حضور کے اس فرمان کے بعد سے والد صاحب کی ہاتھوں پر آبیٹھتی تھیں۔اور نہایت بے فکر اور بے خطر ہو کرکھایا کرتی تھیں۔حالت میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی اور پھر آخر ان کا انجام نہایت اچھا ہوا اور حضور کے ساتھ ان کی عشق کی سی حالت ہوگئی۔حضرت عبداللہ سنوری صاحب کے خاندان کے لوگ دیندار اور علم دوست واقع ہوئے تھے۔آپ کے حقیقی ماموں مولوی محمد یوسف صاحب کی نیک طبیعت سے تعلیم وملا زمت (روز نامه الفضل ۲۱ /اکتوبر ۱۹۲۷ء) آپ بہت ذہین اور قابل تھے۔ریاضی میں اعلیٰ دماغ رکھتے تھے۔اور بھی اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ ہر وقت اپنے ایک فطرت بھانجے عبداللہ ریاضی کے مشکل سے مشکل سوال کو آسانی سے حل کر لیا کرتے تھے۔ابتدائی تعلیم