حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 3
3 له 2 قادیان سے واپس گیا تو اللہ تعالیٰ کا سلوک دیکھئے کہ محکمہ والوں نے اس کی لمبی غیر حاضری کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی بلکہ یہ سوال اُٹھا دیا کہ جس افسر نے اُنہیں برخاست کیا تھا اس افسر کا یہ حق نہیں تھا کہ وہ انہیں ڈسمس کرتا۔چنانچہ مسیح پاک کا یہ عاشق صادق اور فرمانبردار نوجوان نہ صرف اپنی ملازمت پر بحال کیا گیا بلکہ اسے اُن سب مہینوں کی تنخواہ بھی مل گئی جو وہ قادیان گزار آیا تھا۔یہ صالح نوجوان حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب تھے۔جن کے بارے میں خود امام الزمان مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں: حتمی فی اللہ میاں عبداللہ سنوری۔یہ جوان صالح اپنی فطرتی مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھینچا گیا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اُن وفادار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلاء جنبش نہیں لا سکتا۔وہ متفرق وقتوں میں دو دو تین تین ماہ تک بلکہ زیادہ بھی میری صحبت میں رہا اور میں ہمیشہ بنظرِ امعان (یعنی گہری نظر سے۔ناقل ) اس کی اندرونی حالت پر نظر ڈالتا رہا ہوں۔سو میری فراست نے اس کی تہہ تک پہنچنے سے جو کچھ معلوم کیا وہ یہ ہے کہ یہ نوجوان در حقیقت اللہ اور رسول کی محبت میں ایک خاص جوش رکھتا ہے۔اور میرے ساتھ اس کے اس قدر تعلق محبت کے بجز اس بات کے اور کوئی بھی وجہ نہیں جو اس کے دل میں یقین ہو گیا ہے کہ یہ شخص محبانِ خدا اور رسول میں سے ہے اور اس جوان نے بعض خوارق اور آسمانی نشان جو اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملے بچشم خود دیکھے ہیں جن کی وجہ سے اُس کے ایمان کو بہت زیادہ تعارف فائدہ پہنچا۔الغرض میاں عبد اللہ نہایت عمدہ آدمی اور میرے منتخب محبوں میں سے ہے اور باوجود تھوڑے سے گزارہ ملازمت پٹوار کے ہمیشہ حسب مقدرت اپنی مالی خدمت میں بھی حاضر ہے اور اب بھی بارہ روپیہ سالانہ چندہ کے طور پر مقرر کر دیا ہے۔بہت بڑا موجب میاں عبداللہ کے زیادت خلوص و محبت و اعتقاد کا یہ ہے کہ وہ اپنا خرچ بھی کر کے ایک عرصہ تک میری صحبت میں آکر رہتا رہا اور کچھ آیات ربانی دیکھتا رہا۔سواس تقریب سے رُوحانی امور میں ترقی پا گیا۔کیا اچھا ہو کہ میرے دوسرے مخلص بھی اس عادت کی پیروی کریں۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۱) حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب اُن چند خوش نصیب ابتدائی فدائیوں میں شامل وہ با برکت وجود ہیں جنہیں اس زمانے کے مامور حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر، لمبے عرصہ تک آپ کی بابرکت صحبت میں رہ کر آپ کے نور سے مستفیض ہونے علم و عرفان کے خزانے سمیٹنے اور آپ کی خدمت میں کمر بستہ رہنے کی توفیق ملی اور الہی نشانات کا بچشم خود مشاہدہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔اور صرف یہی نہیں بلکہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک عظیم الشان منفر دنشان کے چشم دیدہ گواہ اور اُس کے ظاہری ثبوت کے حامل بھی تھے۔