حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 29 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 29

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل۔29 انجیل نویسوں کے نزدیک ان کے ذکر سے کیا مطلب ہے۔ان کا ذکر نہ تو مسیح علیہ السلام کیلئے قابل فخر ہو سکتا ہے نا آپ کے قانونی باپ یوسف کیلئے۔اور نہ ہی انبیاء کرام کی یہ شان ہے کہ نعوذ باللہ ان کی جدات بدکردار ہوں بلکہ ان کی تو شان یہ ہے کہ وہ صحیح النسب ہوتے ہیں۔تا کہ کوئی ان پر طعن و تشنیع نہ کر سکے۔اور خدا تعالیٰ کی سنت بھی یہی ہے کہ اسکا نبی مفقود النسب نہیں ہوتا بلکہ اس کی زندگی اور خاندانی شرافت و نجابت اس کی سچائی کی دلیل ہوتی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے خاندانی حالات قرآن کریم میں سورۃ آل عمران میں خاندان عمران کے اصطفاء کا ذکر ہے اور اس کے بعد حضرت مریم کی والدہ کا ذکر ہے۔اور انہیں امراة عمران کہا گیا ہے۔یعنی عمران کے خاندان کی ایک عورت اور اس کے بعد حضرت مریم ، حضرت یحییٰ اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر آتا ہے۔اس ترتیب سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم سب کو آل عمران سے قرار دیتا ہے۔جیسا کہ لکھا ہے: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَّالَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَلَمِيْنَ ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَنَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنّى : إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ، وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالا نُثَی وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّيْ أعِيْدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ (سورة ال عمران آیات ۳۴ تا ۳۷)