حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 30 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 30

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 30 ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت نوح کو برگزیدہ کیا اور نسل ابراہیم اور نسل عمران کو اپنے زمانہ کے لوگوں پر امتیاز بخشا۔(اس نے ) ایک ایسی نسل کو ( فضیلت دی ) جو ایک دوسرے سے پوری مطابقت رکھنے والی تھی اور اللہ بہت سننے والا (اور ) بہت جاننے والا ہے۔اور وہ وقت بھی یاد کرو جب نسل عمران کی ایک عورت نے بارگاہ ایزدی میں عاجزانہ دعا کی اور کہا کہ خداوند میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں اسے تیرے لئے وقف کرتی ہوں۔اور وہ دنیوی دھندوں سے آزاد ہوگا۔تو میری یہ قربانی قبول فرما تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔جب اس خاتون نے بچہ جنا تو اسے دیکھ کر کہا کہ اے خدا میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوئی ہے۔اللہ کوخوب پتہ ہے کہ اس نے کیا جنا تھا۔اس کا ذہنی لڑکا اس لڑکی کی طرح نہیں ہوسکتا تھا۔اس نے کہا میں اب اس کا نام مریم رکھتی ہوں۔اور اسے اور اسکی ذریت کو شیطان الرجیم سے بچانے کیلئے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔اس کے علاوہ سورۃ تحریم میں بھی حضرت مریم کو بنت عمران کہا گیا ہے اور فرماں بردار قرار دیا گیا ہے۔اور سورۃ مائدہ اور سورۃ آل عمران میں حضرت مریم کو پاکباز اور صدیقہ کہا گیا ہے۔اور آپکی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔جیسا کہ لکھا ہے: رُّوحِنَا۔وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَحْنَا فِيْهِ مِنْ (سورة التحريم: آیت ۱۳) ترجمہ: اور مریم جو عمران کی بیٹی تھی جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی تھی اور ہم نے اس میں اپنا کلام ڈالا تھا۔مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُوْلٌ : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ