حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 8
13 12 ہجرت برطانیہ 26 اپریل 1984 ء کو پاکستان کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے ایک آرڈینینس جاری کیا جس کی رُو سے احمدیوں پر ایسی پابندیاں عاید کی گئیں کہ پاکستان میں ان کا جینا مشکل ہوکر رہ گیا۔ان حالات میں خلیفہ وقت کا پاکستان میں رہ کر اپنے فرائض منصبی ادا کرنا ناممکن ہو گیا۔ضیاء الحق کا منصوبہ بھی یہی تھا کہ کسی جھوٹے کیس کے ذریعہ خلیفہ اسے کو گرفتار کر لیا جائے۔وہ یہ سمجھ چکا تھا کہ جماعت احمدیہ کی جان خلافت میں ہے۔سب تنظیم، ترقی اور پھیلاؤ خلافت سے چمٹے رہنے کے باعث ہے۔پس وہ خلیفہ وقت اور جماعت کو جدا کر کے جماعت احمدیہ کو ختم کرنا چاہتا تھا۔پیارے بچو! اس کا منصو بہ واقعی خطر ناک تھا۔لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس نے خدا کی جماعت سے ٹکر لی تھی۔وہ چراغ جو خدا نے اپنے ہاتھ سے روشن کیا تھا۔کیسے ممکن تھا کہ انسانی پھونکوں سے بجھ سکتا۔بقول ثاقب زیروی صاحب بجھا سکیں انہیں آندھیاں جو چراغ ہم نے جلائے تھے کبھی لو ذرا سی جو کم ہوئی تو لہو سے ہم نے اُبھار دی جماعت کے عمائدین کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے بعد خدائی اذن سے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے پاکستان سے ہجرت کا فیصلہ کیا۔دشمن نے آپ کی گرفتاری کا منصوبہ بنا لیا تھا اور ضیاء الحق کے دستخطوں سے یہ حکم جاری ہو چکا تھا کہ امام جماعت احمدیہ کو بیرون ملک جانے سے روکا جائے۔لیکن خدا کی تقدیر کہ جو نام اس حکم نامہ میں تھاوہ مرزا ناصر احمد تھا۔جو جماعت احمدیہ کے تیسرے امام تھے اور اس حکم سے دو سال پہلے ہی رحلت فرما چکے تھے اور اب امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب تھے۔کراچی ائیر پورٹ کے حکام نے جب یہ دیکھا کہ نام مختلف ہے لیکن آپ کے پاسپورٹ پر امام جماعت احمد یہ لکھا ہوا ہے۔رات کے دو بجے وہ کس دفتر سے تصدیق کراتے۔حکام کی طرف سے۔K۔L۔M کمپنی کے جہاز کو ایک گھنٹہ روکا گیا بالآخر حضور انور کے جہاز کو جانے کی اجازت مل گئی۔جہاز روانہ ہو گیا اور آپ خدا کی حفاظت میں بخیریت ہالینڈ سے ہوتے ہوئے 30 اپریل 1984ء کولندن پہنچ گئے۔دشمن کی تدبیر نا کام ہو چکی تھی۔وہ تلملا کر رہ گیا۔وہ کچھ نہ کر سکا۔پانچ خفیہ اداروں کی نگرانی کے باوجود خدا نے آپ کو محفوظ رکھا۔پیارے بچو! یہ یقیناً احمدیت کی سچائی کا ایک بڑا نشان تھا اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی یاد دلاتا ہے۔جب آپ گھر کا پہرہ دینے والوں کی نظروں کے سامنے سے نکلے اور دوسو پچاس میل کا سفر طے کر کے بخیریت مدینہ پہنچ گئے اور کفار مکہ ہاتھ ملتے رہ گئے۔