سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 2
پیش لفظ حضرت خلیفہ اصبح الاول نور اللہ مرقدہ کی سیرت و سوانح پر بنی یہ کتاب محترمہ رضیه درد صاحبہ نے تحریر فرمائی اور پہلی مرتبہ اکتوبر 1979ء میں مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کے زمانہ صدارت میں شائع ہوئی۔اس کے بعد 2000 ء میں یہ کتاب دوبارہ شائع کی گئی۔اب خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی کے موقع پر یہ کتاب بعض ضروری تبدیلیوں کے ساتھ کمپوز کروا کے شائع کی جارہی ہے حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب خلیفة امسیح الاول خدا کا ایک پیارا بندہ ہندوستان کی ایک چھوٹی سی بستی میں اپنی دکان میں بیٹھا مریضوں کو دیکھ رہا تھا۔اور دوائی دے رہا تھا۔اچانک ڈاکیا آیا اور اس نیک آدمی کے ہاتھ میں ایک تار تھما دیا۔خدا کے پیارے بندے نے جب تارکھولا تو پتہ چلا کہ یہ خدا کے مسیح موعود" کا تار ہے۔خدا کے مسیح موعود نے لکھا تھا۔بلا توقف دہلی پہنچو۔وو خدا کا یہ بندہ تار پڑھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔سب مریضوں کو چھوڑا۔گھر والوں کو بھی اطلاع نہ دی اور سیدھا ریلوے اسٹیشن کی طرف چل پڑا۔جیب میں ہاتھ ڈال کر یہ بھی نہ دیکھا کہ دہلی جانے کے لئے کرایہ بھی ہے یا نہیں۔خدا کے اس پیارے بندے کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ خدا کے مسیح موعود نے کہا ہے کہ کوئی توقف نہیں کرنا اور دہلی آتا ہے، اس لئے اگر گھر گیا تو دیر ہو جائے گی۔پیسے لینے گیا تو دیر ہو جائے گی۔کسی کو بتانے لگ گیا تو دیر ہو جائے گی۔خدا کا یہ پیارا بندہ قادیان سے امرتسر پہنچ گیا۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ جیب میں جتنے پیسے تھے وہ سب ختم ہو گئے اور اب امرتسر سے دہلی جانے کا کرایہ بھی نہیں۔مگر خدا کے اس پیارے بندے کو کسی کی پرواہ نہیں تھی۔اس کو اپنے خدا پر یقین تھا۔امرتسر کے اسٹیشن پر گاڑی آنے میں کچھ دیر تھی۔خدا کا پیارا بندہ گاڑی