سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 3 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 3

2 کے انتظار میں اسٹیشن پر ٹہل رہا تھا۔ساری دنیا جہان کا مالک خدا اپنے پیارے بندے کی طرف دیکھ رہا تھا۔خدا تعالیٰ کو اپنے اس پیارے بندے پر بہت پیار آیا جو کہ اس کے مسیح موعود کی فرمانبرداری میں اتنا دیوانہ اور بے قرار تھا۔خدا نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے پیارے بندے کے پاس دہلی کا ٹکٹ اور سفر خرچ کی رقم بھیج دی جائے۔اچانک خدا کے پیارے بندے نے دیکھا کہ ریلوے اسٹیشن پر ایک شخص اس کی طرف بڑھتا آ رہا ہے۔جب وہ قریب آیا تو خدا کے پیارے بندے نے اسے پہچانا۔یہ ایک ہندور کیس تھا اس ہندو نے عرض کیا کہ حضور ! میری بیوی سخت بیمار ہے اسے جا کر ذرا کی ذرا دیکھ آئیں۔خدا کے پیارے بندے نے جواب دیا کہ میں خدا کے مسیح موعود کے بلاوے پر دہلی جا رہا ہوں۔میں دیر نہیں کر سکتا کہیں آجا نہیں سکتا۔اس ہندور کیں نے جواب دیا۔میرا گھر بالکل نزدیک ہے۔اور ابھی گاڑی آنے میں کچھ دیر باقی ہے۔میں گاڑی کے آنے سے پہلے پہلے آپ کو واپس چھوڑ جاؤں گا۔چنانچہ خدا کے پیارے بندے نے حامی بھر لی۔ہندو رئیس خدا کے پیارے بندے کو گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے گیا۔اور بیوی کا علاج کروانے کے بعد واپس اسٹیشن پر چھوڑ گیا۔اور خدا کے پیارے بندے کے ہاتھ میں دہلی کا ٹکٹ اور کچھ نقد رقم تھما دی۔اور بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا۔خدا کے پاک بندے نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔اور گاڑی میں بیٹھ کر خدا کے مسیح موعود کے پاس پہنچ گیا۔پیارے بچو! جانتے ہو خدا کا یہ پیارا بندہ کون تھا ؟ خدا کا یہ پیارا بندہ جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ حضرت حافظ حاجی حکیم مولانا نورالدین صاحب تھے جو کہ خدا کے مسیح موعود و مہدی موعود حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کے بلاوے پر قادیان سے دہلی تشریف لے گئے تھے۔حضور کا خاندان آپ کا اصل نام نورالدین تھا۔1841ء کے قریب بھیرہ کے محلہ معماراں میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا نام حضرت حافظ غلام رسول صاحب اور والدہ صاحبہ کا نام نور بخت صاحبہ تھا۔آپ کا شجرہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔آپ کے بزرگوں میں ولی، عالم، بادشاہ ،صوفی ، قاضی ، شہید ہر قسم کے بزرگ گذرے ہیں۔آپ کا خاندان ہمیشہ سے ہی ایک اعلیٰ شان والا رہا ہے۔پاکستان میں آپ کے افراد خاندان آج تک شہزادے کہلاتے ہیں۔والد محترم آپ کے والد کو قرآن سے خاص عشق تھا۔قرآن ہی زندگی کا پیارا مشغلہ تھا۔ہزاروں روپے کے قرآن خرید تے۔ملک کے کونوں میں پھیلا دیتے۔بمبئی کے ایک تاجر کا کہنا ہے کہ میں تمہیں ہزار روپے کے قرآن مجید خرید کر بھیرہ گیا۔آپ نے سب خرید لئے۔بڑی بیٹی کی شادی پر جہیز میں آپ نے سب سے اوپر