سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 15 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 15

·27: ·26۔خلافت کے وقت آپ کی عمر 67 سال کے قریب ہو چکی تھی۔اب آپ کے کندھوں پر خلافت کا بوجھ بھی آن پڑا۔جب آپ اکیلے ہوتے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے فرماتے۔میاں جب سے حضرت صاحب فوت ہوئے ہیں۔مجھے اپنا جسم خالی معلوم ہوتا ہے۔دنیا خالی خالی نظر آتی ہے۔میں لوگوں میں چلتا پھرتا اور کام کرتا ہوں مگر پھر بھی لگتا ہے دنیا میں کوئی چیز بھی باقی نہیں رہی۔شروع میں اکثر وقت آپ تنہائی میں گزارتے، دعا میں مصروف رہتے۔دعا کے لئے ایک علیحدہ کمرہ بنا دیا گیا تھا۔زمانہ خلافت کے بعض نمایاں کام آپ کی خلافت کے زمانہ میں جو کام نمایاں اہمیت والے ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل کئے جاتے ہیں۔نمبرا: - آپ کی خلافت کے شروع ہی میں با قاعدہ بیت المال کا محکمہ قائم کیا گیا۔نمبر ۲:- حضرت مصلح موعود نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے مشورہ سے انجمن تحمید الا زبان کے زیرانتظام ایک پبلک لائبریری قائم کی۔- نمبر ۳:۔حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے شروع ہی سے یہ خواہش تھی کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں ایک دینی مدرسہ قائم ہونا چاہئے۔یکم مارچ 1909 ء کو آپ نے اس کی بنیاد رکھی۔جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مشہور ( رفیق ) حضرت مولانا شیر علی صاحب کی تجویز کے مطابق مدرسہ احمدیہ " رکھا گیا۔نمبر ۴:- اخبار " نور " جاری کیا گیا۔نمبر ۵:- حضرت خلیفہ امسیح الاول نے 5 / مارچ 1910ء کو بعد نماز فجر اپنے مبارک ہاتھوں سے ( بیت) نور کی بنیاد رکھی اور (بیت الذکر ) کے موضوع پر ایک تقریر فرمائی۔نمبر 4 : - اسی سال تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عظیم الشان عمارت کی بنیاد بھی رکھی۔نمبر ۷:۔پہلے بیت اقصیٰ چونکہ تنگ تھی اس لئے عورتیں ابھی تک جمعہ میں آکر خطبہ نہیں سُن سکتی تھیں۔آپ کے وقت میں بیت اقصیٰ کو بڑھانے کا کام مکمل ہوا۔اور 21 جنوری 1910ء کے جمعہ میں احمدی عورتوں نے جن میں ( حضرت اماں جان ) بھی شامل تھیں نماز پڑھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو 1905ء میں خواب کے ذریعہ یہ نظارہ دکھایا گیا تھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ مسیح الاول گھوڑے پر سے گر پڑے ہیں۔یہ خواب پوری ہوئی اور اس حادثہ میں جو ستر سال کی عمر میں آپ کو پہنچا۔آپ کے سر پر سخت چوٹ لگی۔اور بہت خون بہہ گیا۔جس کی وجہ سے تین سال تک یہ بیماری کسی نہ کسی شکل میں چلتی رہی اور شروع میں سات ماہ تو آپ کو بستر پر ہی رہنا پڑا۔آپ بیماری کے دوران نماز حضرت مصلح موعود سے پڑھواتے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں کہ اس بیماری میں ایک دفعہ آپ نے رات کے وقت قلم دوات منگوائے اور ایک کاغذ پر صرف دو لفظ لکھے خلیفہ محمود۔پھر اپنے ایک شاگرد کو وہ کاغذ دیا کہ لفافے میں بند کر کے اپنے پاس رکھو۔مگر جب آپ ٹھیک ہو گئے تو آپ نے وہ لفافہ لے کر پھاڑ ڈالا۔مگر