سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 14 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 14

25۔24 بیٹا! ہم تم سے دس باتیں چاہتے ہیں۔ان میں سے ۱۷۱۰ آج تم نے کر لی ہیں قرآن شریف پڑھو پھر اُسے یاد کرو۔پھر اس کا ترجمہ پڑھو۔پھر اس پر عمل کرو۔پھر اسی طرح ساری زندگی گزار و یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے۔قرآن پڑھاؤ پھر یاد کراؤ۔پھر ترجمہ سُناؤ۔پھر عمل کرواؤ۔پھر اسی حالت میں تم کو موت آجائے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کے مطابق اس خوشی میں ایک بہت بڑی دعوت کا انتظام کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو بہشتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت لوگ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے۔جماعت کو بہت صدمہ تھا۔لیکن جوشخص اس وقت صبر سے کام لے کر جماعت کو تسلی دلا رہا تھا۔وہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل تھے۔سب احمدیوں نے مل کر آپ سے بیعت خلافت کی درخواست کی۔تو آپ نے فرمایا۔میں دعا کے بعد جواب دوں گا۔چنانچہ پانی منگوایا۔نماز نفل ادا کی۔سجدے میں گر کر بہت روئے۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا۔چلو ہم سب وہاں چلیں۔جہاں ہمارے آقا کا جسم مبارک پڑا ہے۔چنانچہ آپ مقبرہ کی آمد اور خرچ کا حساب رکھنے کا ارشاد فرمایا۔اس کے بعد صدرانجمن احمد یہ کا تمام لوگوں سمیت باغ میں تشریف لے گئے۔اس وقت حضور علیہ السلام کی نعش صدر مقرر فرمایا۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے 1906ء میں لڑکوں اور لڑکیوں کو نماز سمجھانے کے لئے ایک رسالہ بھی جاری کیا۔جو بہت پسند کیا گیا۔قدرت ثانیہ کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکتوں والی زندگی کے آخری چند دن آپ کے لئے بہت صبر کے دن تھے۔آخری بیماری میں حضور نے آپ کو بلوایا اور فرمایا کوئی دوائی بتلائیں۔ساتھ ہی فرمایا حقیقت میں تو دوا آسمان پر ہے۔آپ دعا بھی کریں اور دوا بھی۔مگر خدا کا فیصلہ یہی تھا اور خدا کے اس جرنیل کی واپسی کا وقت آگیا تھا کوئی دوا کام نہ آئی اور چودھویں صدی کا یہ روحانی سُورج اس جہان کو منور کر کے اگلے جہان میں چمکنے کے لئے اس دنیا سے غروب ہو گیا۔انا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مبارک باغ میں رکھی تھی۔سب لوگ ارد گرد جمع تھے۔جہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے کھڑے ہو کر تمام جماعت کی طرف سے ایک تحریر پڑھی جس میں آپ کی خدمت میں بیعت کی درخواست کی تھی اور اس پر سب احمدیوں کے دستخط بھی تھے۔آپ نے لوگوں کے سامنے ایک تقریر کی۔فرمایا میری پچھلی زندگی پر غور کر لو۔میں کبھی امام بننے کا خواہشمند نہیں ہوا۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولا مجھ سے راضی ہو جائے۔پھر فرمایا میں یہ بوجھ صرف اللہ ہی کے لئے اٹھاتا ہوں۔اس درد بھری تقریر پر سب نے عرض کیا۔ہم سب آپ کا ہر حکم مانیں گے۔آپ ہمارے امام بنیں چنانچہ اس جگہ بارہ سو کے قریب لوگوں نے بیعت کی۔مردوں کے بعد عورتوں نے بھی بیعت کی۔سب سے اول با قاعدہ بیعت کرنے والی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ( حضرت اماں جان ) تھیں۔