سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 16 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 16

29۔28۔اس کے بعد بھی اپنی وفات تک مختلف طریقوں سے اللہ کی مرضی کے مطابق اس خیال کا اظہار فرماتے رہے کہ آئندہ خلافت اس وصیت کے مطابق ہی ہوگی۔1913ء کے جلسہ سالانہ کے بارہ میں احمدی دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ دو دن ہو۔مگر حضرت خلیفہ امسیح الاوّل نے یہ حکم دیا کہ جلسہ پروگرام کے مطابق 26 سے 28 دسمبر تک تین دن رہے گا چنانچہ اسی کے مطابق ہوا۔نمبر ۸ انجمن انصار اللہ کا قیام :- فروری 1911 ء میں حضرت خلیفہ امسیح الاول کی اجازت سے حضرت مصلح موعود نے ایک انجمن انصار اللہ کی بنیاد ڈالی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا۔میں بھی آپ کے انصار اللہ میں شامل ہوں۔نمبر ۹: - حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب اور حضرت شیخ محمد یوسف صاحب کو سنسکرت پڑھانے کے لئے ایک پنڈت کا انتظام کیا اور اس کا خرچ خود اٹھایا۔نمبر ۱۰:۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی زندگی کے حالات شائع کرنے کا سب سے پہلا خیال اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی کے دل میں آیا۔چنانچہ ان کی خواہش پر حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے اپنے حالات زندگی لکھوائے اور 1912ء کے آخر میں ” مرقاۃ الیقین فی حیات نور الدین“ کے نام سے شائع کئے گئے۔" نمبر 1:- رسالہ احمدی خواتین احمدی عورتوں کی تربیت کے لئے اس وقت کوئی رسالہ نہیں تھا۔چنانچہ 1912 ء سے رسالہ " احمدی خواتین لگانا شروع ہوا۔نمبر ۱۲ : - اخبار ” الفضل“۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے 18 جون 1913ء سے اخبار ”الفضل “ جاری فرمایا۔یہ نام خود حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے تجویز فرمایا تھا۔66 نمبر ۱۳: ضلع گورداسپور میں ایک گاؤں اٹھوال ہے۔جس کے غیر احمدی دوستوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو احمدیوں سے بحث کے لئے بلوایا۔مگر جب انہیں بتایا گیا کہ یہ بحث حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کے مسئلہ پر ہوگی تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا جنازہ ہی پڑھ دو۔جس پر سارا گاؤں احمدی ہو گیا۔نمبر ۱۴:-1913ء کا جلسہ سالانہ آپ کی خلافت کا آخری جلسہ سالانہ تھا۔اس میں آپ نے دوز بردست تقریریں کیں۔آخری ایام اور وفات زخم کی بیماری سے ٹھیک ہونے کے باوجود آپ کی صحت گر رہی تھی اور دین کے کام بہت زور سے جاری تھے کہ جنوری 1914ء میں رات کو پیشاب کے لئے اٹھے تو گر پڑے یہی آپ کی آخری بیماری کا آغاز تھا۔پھر بھی خدا کا کلام سُنانے میں ناغہ نہیں ہونے دیا۔درس جاری رکھا۔طبیعت زیادہ کمزور ہو گئی تو شام کا درس گھر میں جاری کر دیا۔عورتوں میں درس دیتے رہے۔باوجود سخت ضعف کے کھڑے ہو کر درس دیتے۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آرام کریں لیکن آپ نے فرمایا مجھے اس سے طاقت ملتی ہے۔۲ فروری کو ایسے درد سے