حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 8 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 8

13 12 میری زندگی کا دوسرا دور زمانہ نبوی میں میری جنگی مہمات جنگ موتہ اور سیف اللہ کا خطاب ملنا مغرب کے درہ سے داخل ہوا۔اس دستے کے قائد زبیر تھے چوتھے دستے کا سالار میں تھا۔میں شمال مشرق کے راستے سے داخل ہوا۔میرے دستے کو روکنے کے لئے عکرمہ بن ابو جہل اور صفوان فوج لے کر سامنے سے آئے۔عکرمہ میرا بھتیجا اور صفوان میرا بہنوئی تھا عکرمہ اور صفوان سے مقابلہ ہوا۔یہ دونوں بھاگ گئے۔رسول اللہ نے مکہ فتح کر کے قریش کو معاف کر دیا۔آپ نے خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے ابھی مجھے مدینہ آئے ہوئے دو تین ماہ ہی گزرے تھے کہ جمادی الاول ۸ ھ بمطابق تمام بتوں کو تو ڑ کر باہر پھینکوا دیا۔کچھ بہت قریبی بستیوں میں ابھی باقی تھے جن میں سے عزئی ستمبر ۶۲۹ء میں اردن میں مجھے جنگ موتہ میں مسلمانوں کی طرف سے لڑنے کا موقع مل نامی ایک بت نخلہ میں تھا قریش کا یہ سب سے بڑا بت تھا جسے کئی قبائل پوجتے تھے۔رسول گیا۔خدا کی تقدیر نے کچھ اس طرح کام کیا کہ جنگ شروع ہوتے ہی رسول اللہ کے مقرر اللہ نے ہیں سواروں کا دستہ دے کر مجھے نخلہ روانہ فرمایا۔میں جا کر عزمی کو تو ڑ آیا۔آپ نے کردہ تینوں سالار باری باری شہید ہو گئے اور میدان جنگ میں ہی تین ہزار اسلامی لشکر کا فرمایا ” اب تمہاری سرزمین میں اس کی دوبارہ پو جا نہیں کی جائے گی۔“ سالار اللہ تعالیٰ نے مجھے بنا دیا۔میں بڑی بہادری سے لڑا۔اس روز میرے ہاتھوں لڑتے نخلہ سے واپسی پر رسول اللہ نے مجھے مکہ کے جنوب میں تہامہ کی طرف اسلام کی دعوت لڑتے نو تلوار میں ٹوٹیں۔میں اسلامی لشکر کو روم کی دو لاکھ عیسائی افواج سے بچا کر واپس دینے کے لئے بھیجا۔میں نے تہامہ میں یلملم پہنچنا تھا جو مکہ سے پچاس میل دور تھا لیکن میں لانے میں کامیاب ہوا۔رسول اللہ نے مجھے سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔فتح مکہ چند ماه بعد رمضان ۸ھ (بمطابق جنوری ۶۳۰ ء ) میں قریشِ مکہ نے معاہدہ حدیبیہ کی خلاف ورزی کی۔رسول اللہ دس ہزار مسلمان مجاہدوں کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔قریش کو اتنی بڑی طاقت کے مقابلہ کی مہلت ہی نہ ملی اور لڑائی کے بغیر مکہ فتح ہو گیا۔ابھی مکہ سے پندرہ میل تک ہی گیا تھا تو قبیلہ بنو جذیمہ نے ہمارا راستہ روک لیا۔میں نے اس کے کچھ لوگ قتل کر ڈالے جس کا قصاص رسول اللہ نے حضرت علی کو دے کر بھیجا کہ وہ ادا کر آئیں اور مجھے تنبیہ فرمائی۔غزوہ حنین ابھی رسول اللہ مکہ میں ہی تھے کہ مشرق میں ہوازن اور ثقیف کے طاقتور قبائل بارہ اُن دنوں وادی مکہ میں داخل ہونے کے لئے چار دڑے تھے۔رسول اللہ نے اسلامی ہزار کا لشکر تیار کر کے شوال ۰۸ھ بمطابق فروری ۶۳۰ ء میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم فرمایا۔اور ہر ایک حصے پر ایک ایک افسر مقررفرمایا اور مکہ میں داخل تیار ہوئے اور کنین کی وادی میں اوطاس کے مقام پر اکٹھے ہوئے۔ان کا سپہ سالا را یک تمیں ہونے کے لئے چاروں دڑے تقسیم کر دئیے۔سب سے بڑا دستہ ابو عبیدہ کا تھا وہ شمالی درہ سالہ نوجوان مالک بن عوف تھا جو کہ بہت بہادر اور غصے والا انسان تھا۔رسول اللہ نے بارہ سے گزرے۔دوسرا دستہ جنوب سے داخل ہوا یہ دستہ حضرت علی کا تھا۔تیسرا دستہ جنوب ہزار کا لشکر تیار کیا اور مکہ سے وادی حنین کی طرف روانہ ہوئے آپ نے مجھے سات سو