حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 9
15 14 سواروں کا ایک دستہ دے کر اسلامی فوج کے آگے آگے روانہ کیا۔میں نے ذرا جلدی سے بڑ الشکر تیار کیا۔اتنا بڑ الشکر اس سے پہلے کسی جنگ کے لئے دستیاب نہیں ہوا تھا۔میں بھی کام لے کر اوطاس کے مقام پر دشمن پر حملہ کر دیا اور دشمن کی زد میں آکر زخمی ہو کر گھوڑے اس لشکر میں شامل تھا۔رسول اللہ اس لشکر کو لے کر رجب ۰۹ ھ بمطابق اکتوبر ۶۳۰ ءشام کی سے گرا اور بے ہوش ہو گیا۔باقی فوج پہنچنے پر باقاعدہ جنگ شروع ہوئی۔پہلے تو مسلمانوں سرحد کی طرف روانہ ہوئے اور تبوک کے مقام تک پہنچ گئے۔تبوک پہنچ کر معلوم ہوا کہ خطرہ کے قدم اکھڑ گئے لیکن دوبارہ رسول اللہ کی بہادری اور دعاؤں سے دشمن کو شکست فاش ہوئی ٹل گیا ہے کیونکہ رومی فوج سرحد سے ہٹ کر دمشق چلی گئی ہے۔اور مالک بن عوف اپنے قبلے ثقیف کو لے کر طائف کے قلعہ کی طرف بھاگ گیا۔میں جنگ ختم ہونے تک بے ہوش رہا۔پھر رسول اللہ میرے پاس آئے آپ نے دعا کر کے میرے ساتھ امن کے معاہدے کئے اور انہیں اسلامی حکومت میں شامل فرمالیا۔زخموں پر پھونکا۔میں نے محسوس کیا کی میرے جسم میں دوبارہ جان آگئی۔غزوہ طائف ہے۔رسول اللہ نے تبوک کے مقام پر فوجی کیمپ لگایا اور شام کی سرحد پر آبا د قبائل عرب کے تبوک سے قدرے آگے ایک علاقہ دومتہ الجندل کے نام سے مشہور تھا جو آجکل الجوف کہلاتا ہے اس علاقہ پر قبیلہ کندہ کا ایک عیسائی شہزادہ اُکید رحکومت کرتا تھا۔اس نے سرکشی رسول اللہ نے حکم دیا کہ ہم طائف پہنچ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیں۔اسلامی لشکر طائف کی دکھائی۔اور آپ کی خدمت میں امن کے معاہدے کے لئے حاضر نہ ہوا۔رسول اللہ نے طرف روانہ ہو گیا میں سارا راستہ ہر اول دستے کی قیادت کرتا رہا۔۱۵ رشوال ۰۸ ھ بمطابق مجھے 400 سواروں کا دستہ دے کر اکیدرکو گرفتار کرنے کے لئے بھیجا۔اکیدر کو شکار کا بہت ۵ فروری ۶۳۰ء کو ہم طائف پہنچے۔دشمن قلعہ بند ہوگئے اور مسلمان فوج نے طائف کا شوق تھا۔گرمیوں کا موسم تھا۔چاندنی راتیں تھیں اکیدر رات کو نیل گائے کا شکار کرنے محاصرہ کر لیا۔ہیں دنوں تک محاصرہ جاری رہا۔سخت سردیوں کے دن تھے۔مشورہ کیا گیا اور اپنے محل سے باہر نکلا۔اس کا بھائی حستان بھی اس کے ساتھ تھا اور حفاظتی دستہ بھی۔میں نے ۴/ذیقعدہ کو محاصرہ اُٹھا لیا گیا۔حنین کا مال غنیمت تقسیم کر کے ہم رسول اللہ کے ساتھ مدینہ چند ساتھیوں کو لے کر اکیدر کا تعاقب کیا اس کے ساتھی حملہ آور ہوئے۔اکیدر کا بھائی حستان روانہ ہو گئے اور ذیقعدہ کے آخر تک مدینہ پہنچ گئے۔تبوک اور دومۃ الجندل کی مہمات مارا گیا میں نے اُکیدر کو گرفتار کر لیا اور اسے لے کر رسول اللہ کی خدمت میں تبوک حاضر ہوا۔اُ کیدر نے بھاری فدیہ دے کر رسول اللہ کی اطاعت قبول کر لی۔اس کے بعد ہم واپس ہجرت کا نواں سال تاریخ اسلام میں سالِ وفود کے نام سے مشہور ہے۔کیونکہ اس مدینہ آ گئے۔اس کے بعد سارا سال کوئی جنگی مہم پیش نہ آئی۔سال عرب میں ہر طرف سے قبائل کے وفود رسول اللہ کے پاس مدینہ آتے اور اسلام قبول کرتے رہے۔دیکھتے دیکھتے اسلام سارے عرب میں پھیل گیا۔اس دوران یہ خبریں پہنچیں کہ رومیوں نے شام کی سرحد پر مدینہ کے شمال میں اپنی فوجیں جمع کر لی ہیں اور وہ مسلمانوں رسول اللہ کی زندگی میں میری آخری مہم اگلے سال ربیع الاول ۱۰ھ بمطابق جولائی ۶۳۱ء میں رسول اللہ نے 400 سواروں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔رسول اللہ نے اس لشکر کو سرحد پر ہی روکنے کے لئے تیس ہزار کا ایک کی جماعت کا سالار بنا کر مجھے نجران کے قبیلہ بنو حارثہ کے پاس بھیجا۔میں نے نجران پہنچ کر