حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 7 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 7

11 10 فرما دی اور مجھ پر ہدایت کی راہ واضح فرما دی۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں رسول اللہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ میں آپ کے خلاف کئی جنگوں میں لڑ چکا ہوں۔کے خلاف سب جنگوں میں شامل ہوا اور سب میں ناکام ہوا۔میں رسول اللہ کی فوجی مہارت میرے گناہوں کی معافی کے لئے دُعا فرما ئیں۔آپ نے فرمایا۔اسلام پچھلے سب گناہ کا قائل ہو گیا میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں غلطی پر ہوں اور رسول اللہ ضرور غالب معاف کر دیتا ہے اور میرے لئے دُعا فرمائی۔آئیں گے۔مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اور ہماری کم ہو رہی تھی میرا بھائی ولید بن ولید مسلمان ہو چکا تھا۔میری خالہ میمونہ ۷ ھ میں رسول اللہ سے نکاح کر چکی تھیں۔رسول اللہ کی توجہ نے مجھے اپنی طرف کھینچا۔۷ھ میں جب آپ کعبہ کا طواف کرنے آئے تو میرا بھائی ولید بن ولید بھی ہمراہ تھا۔آپ نے میرے بھائی ولید سے پوچھا کہ تمہارا بھائی خالد کہاں ہے؟ میرے بھائی نے عرض کی۔”حضور ! خالد کو اللہ ہی لائے تو لائے۔“ مدینہ پہنچ کر میرے بھائی ولید نے مجھے ایک خط لکھا کہ کس طرح رسول اللہ نے میرے بارے میں پوچھا تھا اور مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔اُن ہی دنوں میں نے خواب دیکھا۔کہ میں ایک ویران ، چٹیل اور تنگ جگہ پر ہوں پھر وہاں سے ایک سرسبز و شاداب علاقہ میں آ گیا ہوں۔میں نے اسلام قبول کرنے کا پکا ارادہ کر لیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔مکہ سے باہر میری ملاقات عمرو بن العاص اور عثمان بن طلحہ سے ہوئی یہ دونوں میرے دوست اور قریش کے اُمراء کی اولاد تھے۔یہ بھی اسی مقصد کے لئے مکہ سے نکلے تھے۔ہم تینوں دوست مدینہ میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔رسول اللہ کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا۔مسلمانو! مکہ نے اپنے جگر گوشے نکال کر تمہارے سامنے ڈال دیئے ہیں۔“ ہم نے باری باری رسول اللہ کی بیعت کی اور مسلمان ہوگئے پہلی بیعت میں نے دوسری عمرو نے اور تیسری عثمان نے کی۔اس وقت میری عمر ۴۳ سال تھی۔اس کے بعد میں مدینہ میں آکر رہنے لگا اور میری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔