حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 16 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 16

20 29 28 ہو چکے تھے۔یزید اور شرحبیل کے لشکر بھی اُن کے ماتحت تھے۔وہ وہاں سے بصری کی طرف با قاعدہ خوراک کا انتظام تھا۔پانی اور کھجوروں پر گزارہ کر کے یہ فوج اجنبی راستوں پر آگے بڑھے۔بصری دمشق کے قریب رومیوں کا ایک اہم سرحدی قصبہ تھا اور جنوبی شام اور اردن بڑھ رہی تھی۔کا حکمران وہاں رہتا تھا۔بصری کی حفاظت کے لئے رومیوں کی ایک بھاری فوج وہاں موجود تھی میری ملاقات ابو عبیدہ سے بصری کے محاذ پر ہوئی۔اجنادین پہنچ کر میں نے اپنی فوجوں کا معائنہ کیا۔اور انہیں کئی گنا فوج کے مقابلے پر ثابت قدم رہنے اور اپنے دین کی حفاظت کرنے کے لئے کہا۔ادھر رومی فوج کے سپہ سالار بصری میرے پہنچنے پر جمادی الاول ۱۳ ھ (بمطابق جولائی ۶۶۳۴ ) کو فتح ہوا۔بصری نے بھی اپنے افسروں کے سامنے تقریر کی اور انہیں بتایا کہ وہ ایک ایک مسلمان کے مقابلے پہلا اہم شہر تھا جو مسلمانوں نے شام میں فتح کیا۔بصری کی فتح کی خبر میں نے حضرت ابو بکر پر تین تین ہیں۔اس لئے وہ خوب ڈٹ کر لڑیں۔کو بھجوائی اور شام کی سرحد میں داخل ہونے والی جنگی کامیابیوں سے اُن کو آگاہ کیا اور مال غنیمت بھی بھجوایا۔اجنادین کی فتح لڑائی شروع ہونے سے پہلے رومیوں نے ایک عرب عیسائی میری فوجوں کی جاسوسی کرنے کے لئے بھیجا۔اُس نے واپس جا کر رومی سپہ سالار کو بتایا کہ مسلمان تعداد میں تو ہم سے بہت تھوڑے ہیں لیکن ہم اُن سے کبھی جیت نہیں سکتے۔کیونکہ ان کے مرد دن کو میدان جنگ میں لڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعائیں کرتے ہیں جبکہ ہر قل کو جب میری آمد اور بصری کی فتح کا علم ہوا تو اس نے اپنی فوجیں اجنادین میں ہمارے فوجی راتوں کو شراب پیتے ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ان سے مقابلہ جمع کرنی شروع کر دیں۔اجنادین کے قریب شام، فلسطین اور اردن کی سرحدیں آپس میں کرنے کی بجائے زمین میں دھنس جانا زیادہ بہتر ہوگا۔ملتی تھیں۔ہر قل کا مقصد یہ تھا کہ دمشق، فلسطین اور اردن کی طرف جانے والی اسلامی فوجوں میں نے ۲۸ / جمادی الاوّل ۱۳ھ (بمطابق ۳۰ / جولائی ۶۶۳۴) کو اسلامی فوج کو کو اجنادین کے قریب شکست دے کر واپس صحرا میں بھگا دیا جائے۔چنانچہ ہرقل کی میدان جنگ کے لئے وسیع کر کے پھیلا دیا۔تا کہ انہیں رومی فوج گھیرے میں نہ لے سکے۔اجنا دین میں نوے ہزار کی تعداد میں فوجیں جمع ہو گئیں۔لڑائی شروع ہونے سے قبل ایک رومی افسر میرے ساتھ بات کرنے کے لئے آگے آیا اسلامی فوجوں نے جولائی ۶۳۴ ء کے تیسرے ہفتے میں بصری سے اجنادین کی طرف اور کہنے لگا ” اے عرب ! تجھے معلوم ہونا چاہیئے کہ تو نے ایک ایسے ملک پر چڑھائی کی ہے کوچ کیا۔اس لشکر کی عجیب شان تھی۔خدا اور رسول کے سچے عاشق اسلام کی خاطر اپنی جس میں کسی بادشاہ کو بھی داخل ہونے کی ہمت نہیں پڑی۔دیکھو ہمارے پاس ریت کے جانیں قربان کرنے جا رہے تھے۔اس فوج کی نہ تو کوئی باقاعدہ وردی تھی اور نہ اسے عام ذروں کی طرح لا تعداد فوج ہے تم اگر اپنی فوج کو اس ملک سے نکال لو تو تمہارے ہر سپاہی کو ملکوں کی فوجوں کی طرح سہولتیں حاصل تھیں۔اپنے اپنے سادہ لباسوں میں ملبوس۔سادہ ایک دینار اور ایک قبا اور ایک عمامہ عطا کیا جائے گا اور خود تمہیں سو دینار۔سو قبا ئیں اور سو ہتھیاروں کے ساتھ سردیوں کے موسم میں یہ فوج اپنے سے تین چار گنا زیادہ طاقتور فوج کا عمامے دیئے جائیں گے۔یہ ہے پیغام رومی فوجوں کے سپہ سالار کی طرف سے۔مقابلہ کرنے جارہی تھی۔نہ تو ان کے لئے باقاعدہ سڑکیں بنتی تھیں اور نہ ان کے لئے میں نے جواب دیا ”ہمارے پاس تین ہی باتیں ہیں جن میں سے ایک مان لو۔یا