حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 17
31 30 اسلام قبول کرو یا جزیہ دو یا لڑائی کے لئے تیار ہو جاؤ۔اس کے بغیر مسلمانوں کے ملک اپنی پچاس ہزار لاشیں چھوڑ کر یروشلم کی طرف بھاگ کر پناہ گزیں ہو گئے۔اس جنگ میں چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دینا ر اور قبا ئیں تو ہمیں فتح کے بعد مل ہی جائیں چارسو پچاس مسلمان شہید ہوئے۔اجنادین فتح ہو گیا۔مدینہ اطلاع پہنچی تو مدینہ کی فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اُٹھی۔جنگ اجنادین کی کامیابی نے شام کو فتح کرنے کے لئے گے،، رومی افسر نے واپس جا کر اپنے رومی سپہ سالار کو میرا جواب پہنچایا۔میرا جواب سُن کر راستہ کھول دیا۔وہ غضبناک ہوا اور قسم کھائی کہ وہ ایک ہی حملہ میں مسلمانوں کو نیست و نابود کر دے گا۔چنانچہ سورج ڈھلنے کے بعد رومی فوج نے حملہ کر دیا۔کچھ مسلمان شہید ہوئے مسلمانوں نے آگے بڑھ کر جوا با حملہ کیا اور رات ہوگئی۔دمشق کی تسخیر اجنادین کی جنگ سے فارغ ہو کر میں اپنی فوج کو لے کر یروشلم کے جنوب میں اس شہر رات کو رومی سپہ سالا رور دان نے میرے پاس ایک ایلچی بھیجا کہ وہ کل میرے ساتھ سے قدرے ہٹ کر دمشق کی طرف بڑھا۔ایک دو مقامات پر رومیوں نے ہمارا راستہ روکا ملاقات کر کے صلح کی بات کرنا چاہتا ہے دراصل وہ مجھے قتل کرنے کا منصو بہ بنارہا تھا۔اس کا لیکن شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے۔میں بالآخر اپنی فوج لے کر دمشق پہنچ گیا۔علم مجھے اس طرح ہوا کہ جو عیسائی عرب ایچی بن کر آیا اس پر میرا اتنا رعب طاری ہوا کہ اس دمشق کو ملک شام کی جنت کہا جاتا تھا۔یہ ایک قلعہ نما شہر تھا۔جس کی دیواریں پینتیس نے مجھے سارا منصوبہ بتا دیا اور بتایا کہ ملاقات کے وقت رومی فوج کے دس سپاہی ایک قریبی فٹ اونچی تھیں اور شہر میں داخل ہونے کے لئے چھ دروازے تھے۔دمشق میں رومی فوج کی ٹیلے کے پیچھے چھپے ہوں گے جو مجھے ملاقات کے دوران قتل کر دیں گے۔تعداد بارہ ہزارتھی۔اس شہر میں ہر قل کی بیٹی اور اس کا خاوند رہتا تھا۔ہر قل کے داماد کا نام تو ما منصو بہ چونکہ معلوم ہو چکا تھا اس لئے ہمارے دس آدمیوں نے اس موقع پر پہلے ہی تھا اور وہی ان فوجوں کا سپہ سالار تھا۔اس کے ماتحت بڑے تجربہ کار سالار تھے۔توما کے جا کر ان دس رومی سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ان کی وردیاں خود پہن لیں۔نائب کا نام عزا ز یر تھا جو بہت تجربہ کار جرنیل تھا۔ہر قل نے انطاکیہ سے پانچ ہزار کی فوج کو جب میں اور ور دان ملاقات کے لئے اپنی فوجوں سے آگے بڑھے تو وردان نے عربوں دمشق کی فوج کی امداد کے لئے روانہ کیا۔اس کے سالا رکلوس نے شہنشاہ روم سے وعدہ کیا کے بارے میں حقارت کا اظہار کیا۔میں نے اسے اسلام قبول کرنے یا جزیہ دینے کی شرط پر صلح کہ وہ میرا سر نیزے پر مار لائے گا۔“ کرنے کے لئے کہا۔اس نے دس چھپے ہوئے رومیوں کو اشارہ کیا رومی لباس پہنے ہوئے دس سپاہی ٹیلے کے پیچھے سے تلواریں لے کر نمودار ہوئے لیکن وہ تو میرے سپاہی تھے۔انہیں دیکھ کر لیں تا کہ پوری طرح میرا مقابلہ کر سکے۔وردان گھبرایا۔ان جاں شاروں کے قائد ضرار نے وردان کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔تو ما کو ہماری آمد کا علم ہوا تو اس نے کھانے پینے کی چیزیں کثرت سے شہر میں جمع کر میں نے اپنی فوجوں کو نئے سرے سے منظم کیا اور اپنے ساتھ عراق سے آئے ہوئے رومیوں کے سپہ سالار کی موت کی خبر رومی فوجوں پر بجلی بن کر گری۔ان کے حوصلے لشکر میں سے چار ہزار گھوڑ سواروں پر مشتمل ایک متحرک دستہ تیار کیا۔پست ہو گئے۔لڑائی میں ان کے تمام بڑے بڑے سالار مارے گئے اور میدانِ جنگ میں مرج الصفر کے مقام پر رومی لشکر نے میرا راستہ روکنا چاہا۔۱۹ / جمادی الاول ۱۳ھ