حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 15
27 26 جنگجو تھا۔اس نے خالد بن سعید کے لشکر کو اپنے نرغے میں پھنسا لیا۔اتنے میں عکرمہ پہنچ گئے سالار کی حیثیت سے خدمات سرانجام دوں۔اور مسلمانوں کو اس نازک صورتِ حال سے نکالا۔صحرا کا خطرناک سفر شام میں خطر ناک حالات پیدا ہورہے تھے۔ہر قل بڑی کثرت سے افواج شام میں اکٹھی کر رہا تھا۔حضرت ابو بکر نے ۱۲ھ کے حج سے فارغ ہو کر شام میں جہاد کرنے کا اعلان اٹھارہ ہزار میں سے نو ہزار فوج لے کر میں ربیع الاول ۱۳ھ (بمطابق جون ۶۳۴ ء) کو حیرا سے روانہ ہوا۔شام پہنچنے کے لئے میں نے ایک راستے کا انتخاب کیا جو ایک لق و دق صحرا فرمایا۔مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں عرب کے اندر چاروں طرف سے مدینہ پہنچ کر میں سے گزرتا تھا۔یہ راستہ تمام معلوم راستوں سے چھوٹا تھا۔اگر ہم معروف راستوں سے شام کے جہاد کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔حضرت ابو بکر نے شام میں جہاد کرنے کے لئے سات سات ہزار کے چارلشکر بنائے جاتے تو رومی فوجیں ہمارا راستہ روک لیتیں۔اور ہم اصل محاذ پر نہ پہنچ سکتے۔ہم نے یہ انتہائی اور ان میں مندرجہ ذیل سالار مقرر فرمائے اور ان کے لئے الگ الگ محاذ مقرر فرمائے۔خطر ناک سفر پانچ دنوں میں ختم کیا۔جون کا مہینہ ، گرم موسم اور دھوپ کی شدت سے صحرا کی تپتی ہوئی ریت اور پانی کا نام ونشان تک نہ تھا تا ہم بڑی ہمت اور دعاؤں سے یہ سفر مکمل ا۔حضرت عمرو بن العاص فلسطین ۲۔حضرت یزید بن ابوسفیان دمشق ۳۔حضرت شرحبیل بن حسنه اردن ۴۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح حمص ہوا۔اور ہم پانچھ میں دن شام کی سرحد پر سوئی کے مقام پر پہیئے۔تکمیل سفر یہاں میں نے اپنی فوج کا معائنہ کیا اور انہیں بلند ہمت پایا۔میں نے نہ خود آرام کیا حضرت ابو بکر نے نصیحت فرمائی کی ہر ایک سالار ایک دوسرے سے رابطہ رکھے۔اور اور نہ اپنی فوج کو آرام کرنے کی اجازت دی اور دمشق کی طرف بڑھنا شروع کیا راستے میں اگر اکٹھے ہو کر لڑنے کی نوبت آئے تو ان سب کے سپہ سالا را بو عبیدہ بن الجراح ہوں گے جو میں نے کئی چھوٹی چھوٹی فتوحات حاصل کیں۔تین روز کے سفر کے بعد ہم دمشق سے ہیں کہ رسول اللہ کے پُرانے صحابی تھے اور ان دس پاکبازوں میں سے تھے جنہیں رسول اللہ میل دور ایک پہاڑی کے پاس پہنچے۔یہاں ایک درہ تھا میں نے درے کے سب سے نے انہیں ان کی زندگی میں ہی جنت کی خوش خبری دے دی تھی۔اور جو عشرہ مبشرہ کہلاتے اونچے حصے پر پہنچ کر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔یہ درہ میرے جھنڈے کے نام پر بعد میں ثنیہ ہیں۔یہ لشکر ایک ایک دن کے وقفے سے صفر ۱۳ھ (بمطابق اپریل ۶۳۴ء ) میں مدینہ سے العقاب ( یعنی درۂ عقاب ) مشہور ہو گیا۔یہاں سے میں نے ابو عبیدہ کو بصری کے قریب ملنے کے لئے پیغام بھیجا اور میں خود دمشق کو ایک طرف چھوڑتا ہوا بصری کی طرف روانہ ہوا۔روانہ ہوئے۔ہر قل خود قسطنطنیہ سے شام آیا اور مسلمانوں سے آٹھ گنالشکر تیار کیا۔حضرت ابو بکر کو جب اس صورتِ حال کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا۔واللہ ! میں خالد بن ولید کے ذریعے رومیوں اور شیطان کے ساتھیوں کو نیست و نابودکروں گا۔(طبری) چنانچہ آپ نے مجھے عراق خط لکھا کہ نصف فوج لے کر فوراً شام پہنچوں اور اسلامی فوج کے سپہ بصری کی فتح حضرت ابو عبیدہ دریائے یرموک کے شمال مشرق میں حوران کے ضلع پر پہلے ہی قابض