حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 14 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 14

25 24 ہوا تو وہ اپنی فوج لے کر حفیر چلا آیا۔میں ایک اور راستے سے جوصحرا میں سے گزرتا تھا فارس۔یہی دو حکومتیں تقریباً ساری دُنیا پر حکومت کرتی تھیں۔اپنی فوج لے کر کا ظمہ پہنچ گیا۔ہر مز کو پھر کا ظمہ آنا پڑا۔میں نے ہر مز کی زنجیریں پہنی ہوئی پہلے روم کی حکومت تمام یورپ ،مصر اور ایشیائے کو چک تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کا فوج کو تھکانے کے لئے یہ حربہ استعمال کیا تھا۔کا ظمہ پہنچ کر میری اور بُر مز کی انفرادی لڑائی مرکز اٹلی کا شہر روم تھا بعد میں اس حکومت کے دوٹکڑے ہو گئے۔مغربی حصے کا دارالحکومت تو ہوئی میں نے ہر مزکو زمین پر گرا لیا۔ہرمز کے کچھ سپاہی دھوکہ دے کر تلواروں سے مجھ پر روم ہی رہا لیکن مشرقی حصے کا دارالحکومت قسطنطنیہ ہو گیا۔مشرقی روم کا شہنشاہ بھی قیصر روم جھپٹے میری فوج انفرادی جنگ میں عہد شکنی نہیں کر سکتی تھی قریب تھا کہ میں مارا جاتا کہ حضرت کہلاتا تھا اور اس کا نام ہر قل تھا۔ہر قل کی حکومت میں مصر، حبشہ ، فلسطین ، شام ، ایشیائے ابو بکر کی ایک آدمی پر مشتمل کمک قعقاع بن عمر و عین اس وقت پہنچا اور اس نے ہرمز کے ان کو چک اور بلقان کے ممالک تھے۔ہر قل کی حکومت مذ ہباً عیسائی حکومت تھی۔آدمیوں کو قتل کر دیا۔بُر مزمیرے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا تاج جس میں قیمتی ہیرے جڑے سلطنت روم میں شام ایک خوبصورت علاقہ تھا۔اور اس کی سرحدیں جنوب میں عرب ہوئے تھے میرے قبضے میں آیا۔پھر جنگ شروع ہوئی اور ہر مز کی فوج کو شکست فاش ہوئی۔کے ساتھ ملتی تھیں۔حلب حمص ، دمشق، شام کے بڑے بڑے شہر تھے۔شام کے مغرب میں میں نے اُبلہ پر قبضہ کر لیا اور بہت سا مال غنیمت اور بُر مز کا تاج حضرت ابوبکر کے پاس انطاکیہ، بیروت ،صور، علہ ، جافہ، بحیرہ اور روم کے ساحل پر اس کی مشہور بندرگا ہیں تھیں۔مدینہ بھیجا۔اور فتح کی خوشخبری دی۔حضرت ابو بکر بہت خوش ہوئے انہوں نے تاج مجھے جنوبی شام اور اردن پر عرب قبیلہ غستان کی نیم خود مختار حکومت تھی۔اور ان کا دارالحکومت بصری واپس کر دیا اور فرمایا۔یہ تمہارا حق ہے۔وہ ایک قیمتی تاج تھا میں نے اسے ایک لاکھ درہم تھا۔بصری رومیوں کا ایک اہم سرحدی شہر تھا۔میں بیچا۔یہ جنگِ سلاسل یعنی زنجیروں والی جنگ کہلاتی ہے جو کہ محرم ۱۲ھ مطابق اپریل ۶۳۳ء میں ہوئی۔وسطی عراق کی فتح اہل شام کو مسلمانوں کے ساتھ مذہبی عداوت تھی۔۷ھ میں بصری کے حاکم نے رسول اللہ کے اس قاصد کو قتل کر دیا تھا جو اس کے پاس رسول اللہ کا تبلیغی خط لے کر گیا تھا۔ان سے دو جنگیں رسول اللہ کے زمانے میں ہو چکی تھیں جو جنگ موتہ اور غزوہ تبوک کے نام سے مشہور ہیں۔رسول اللہ کی وفات کے بعد جب تمام عرب میں بدامنی پیدا ہوئی تو ہر قل نے اس کے بعد ربیع الاول ۱۲ھ مطابق جون ۶۳۳ ء تک میں نے دجلہ و فرات کا درمیانی اپنی فوجیں شام میں جمع کرنی شروع کر دیں۔علاقہ بھی فتح کر لیا اور وہاں سے دو خطوط مدائن بھیجے۔ایک دربار فارس میں اور دوسرا فارس حضرت ابو بکر نے ۱۲ھ کے آخر (بمطابق آغاز ۶۳۴ ء ) میں ایک دستہ شام کی سرحد پر کے عوام کے نام جن میں انہیں دعوت دی کہ مسلمانوں کی اطاعت قبول کرلو اور ہم تمہاری تیما کے مقام پر بھجوایا۔اس دستے کا امیر میرا ہم نام ایک شخص خالد بن سعید تھا۔رومیوں نے حفاظت کریں گے لیکن وہاں سے کوئی جواب نہ آیا۔سلطنتِ رُوم سے ٹکر بہا کہ لکھا جا چکا ہے کہ اُس زمانے میں دنیا کی سب سے بڑی حکومتیں دو تھیں روم اور مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔خالد بن سعید نے حالات حضرت ابو بکر کو لکھے اور با قاعدہ جنگ کی اجازت مانگی۔حضرت ابو بکر نے اجازت دے دی اور عکرمہ بن ابی جہل کو خالد بن سعید کی مدد کے لئے بھیجا۔خالد بن سعید کا ٹکراؤ ایک رومی دستے سے ہوا جس کا سپہ سالا ربا ہان نامی ایک مشہور