حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 9
مَا كَانَ مُحَمَّدْاَبَا احَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ - (سورۃ الاحزاب: ۴۱) رسول کا رشتہ سب سے برابر کا رشتہ ہو جاتا ہے اور اس رشتے میں جو روحانی بیٹا بنے گا اس کی راہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی اور جو روحانی بیٹا نہیں بنے گا ظاہری تعلق بھی اُس کے کسی کام نہیں آ سکتا۔یہ وہ مضمون تھا جسے حضرت مسیح موعود نے بیان فرمایا اور ان ملانوں نے کیسے کیسے ظلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی خلاف یہ غلط باتیں منسوب کیں کہ گویا نعوذ باللہ من ذالک آپ کے دل میں نہ صحابہ کی عزت تھی نہ اہل بیت کی تھی۔اب میں آپ کو حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں بتا تا ہوں کہ آپ کے نزدیک اہل بیت کا کیا مقام تھا اور صحابہ کا کیا مقام تھا۔فرماتے ہیں :۔حضرت عیسی علیہ السلام اور امام حسین کے اصل مقام اور درجہ کا جتنا مجھ کوعلم ہے دوسرے کو ( ملفوظات جلد سوئم صفحه ۵۳۰ ) نہیں ہے 66 اور حضرت عیسی اور حضرت امام حسین کا کیا جوڑ ہے۔نبیوں میں اپنی جان کی عظیم قربانی پیش کرنے میں حضرت عیسی کو ایک عجیب مرتبہ اور عجیب مقام حاصل ہے۔نبیوں میں وہ ایک منفرد مقام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزرے ہیں۔جس طرح جس شان کے ساتھ حضرت عیسی نے حق کی خاطر اپنی جان کی قربانی پیش کی ہے اور صلیب کی اذیتیں قبول کی ہیں۔پس دیکھیں ایک عارف باللہ کا کلام کس طرح ان باتوں کو جوڑتا ہے جس طرف ایک ظاہری نظر رکھنے والے کا تصور بھی نہیں جاسکتا۔فرماتے ہیں:۔حضرت عیسی اور امام حسین کے اصل مقام اور درجہ کا جتنا مجھے علم ہے دوسرے کو نہیں ہے کیونکہ جو ہری ہی جو ہر کی حقیقت کو سمجھتا ہے اس طرح پر دوسرے لوگ خواہ وہ امام حسین کو سجدہ کریں مگر وہ اُن کے رتبہ اور مقام سے محض نا واقف ہیں اور عیسائی خواہ حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا یا خداجو چاہیں بنا دیں مگر وہ اُس کے اصل اتباع اور حقیقی مقام سے بے خبر ہیں اور ہم ہرگز تحقیر نہیں ( ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۳۰) اُن کی تحقیر مراد نہیں بلکہ واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ جو سیح" کا جو حقیقی مرتبہ میرے دل پر روشن ہوا کرتے“۔