حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 8
(8) آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اور یہی آج اُمت کا علاج ہے کہ ایک ہی زبان سے ایک ہی منہ سے صحابہ کے عشق کے قصے بھی بیان ہوں اور اہل بیت کے عشق کے قصے بھی بیان ہوں تا کہ پھر امت ان دو پاک ذرائع سے ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو جائے۔یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اور وہی مرکزیت اسلام کو دوبارہ نصیب ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ اہمیت کا بھی نہیں دیا۔نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۲۳) یہ وہ عبارت ہے جس کو لے کر مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو امام حسین کے خلاف کیسی سخت زبان استعمال کی گئی۔”رتبہ ابنیت کا بھی نہیں دیا۔کہتے ہیں دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں شمار نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود کی یہ عبارت پوری پڑھتے تو ان کو پتہ چلتا کہ اگلے فقرے میں فرمایا ہے کہ آیت خاتم النبین بتا رہی ہے :۔مَا كَانَ مُحَمَّدُ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ (سورۃ الاحزاب : ۴۱) کہ محمد تم میں سے کسی فرد کا بھی باپ نہیں ہے کسی مرد کا بھی باپ نہیں ہے تو یہ اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسین ہی نہیں صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو جسمانی طور پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہو اور ہر ایک وہ ہے جو روحانی طور پر آپ کا بیٹا بن سکتا ہے۔پس یہ تفریق دور کرنے کے لئے ایسا عجیب نکتہ ہے جو امت محمدیہ کے سامنے پیش فرمایا کہ تم خون کے رشتے سے ابنیت کی باتیں چھوڑ دو کیونکہ قرآن کریم نے ہر رشتے سے ابنیت کی باتیں ختم کر دیں ہیں۔سوائے روحانی رشتے کے۔