حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 10
(10) ہے اور حسین کا جو حقیقی مرتبہ میرے دل پر روشن ہوا ہے وہ اُن کے سجدہ کرنے والوں کے دلوں پر بھی روشن نہیں اور سجدہ کرنا خود بتاتا ہے کہ مقام سے بے خبر ہیں۔پس اُسی فقرہ میں اپنے کلام کی تائید میں ایک محکم دلیل بھی شامل فرما دی۔وہ شان کیا ہے؟ فرماتے ہیں:۔میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک نا پاک طبع دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے وہ معنی اس میں موجود نہ تھے۔یہ ہے اعلان حق کوئی پرواہ نہیں کہ سنی اس سے خوش ہوتے ہیں یا ناراض ہوتے ہیں حالانکہ آپ اہل سنت سے تعلق رکھتے تھے اہل تشیع میں شامل نہیں تھے اور امام تو درحقیقت دونوں سے بالا تھا کیونکہ آپ نے حکم و عدل کے طور پر دونوں کے درمیان فیصلے کرنے تھے۔پس آپ دنیا کے خوف سے بالکل مستغنی اور بالا تھے۔فرماتے ہیں:۔یزید ایک نا پاک طبع دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے وہ معنی اس میں موجود نہ تھے۔مومن بننا کوئی سہل امر نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کی نسبت فرماتا ہے:۔قَالَتِ الأَعْرَابُ أَمَتَا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں۔مجموعه اشتہارات جلد سوم صفحه ۵۴۴) پھر فرماتے ہیں یزید کے متعلق:۔دنیا کی محبت نے اُس کو اندھا کر دیا تھا مگر حسین طاہر و مطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کرتا ہے اور بلاشبہ