حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 5

(5) خون بہیں گے سر پٹھور ہوگی ایک دوسرے کو گالیاں دی جائیں گی اور اسلام کے دو بڑے حصہ یعنی شیعہ اور سنی اگر اس عرصہ میں گزشتہ محرم سے اب تک قریب آ بھی گئے تھے تو پھر دوبارہ ایک دوسرے سے ایسا پھٹیں گے کہ ان نفرتوں کی یاد آئیندہ محترم تک یاد رہے گی اس لئے حکومت ALERT ہورہی ہیں۔بعض جگہ فوجوں کو بلایا جارہا ہے۔بعض جگہ پولیس کے ریزرو کو حرکت دی جا رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ نہایت خطرے کے دن ہیں محبت میں خطرے ہیں۔کیسے خطرے ہیں ؟ محبت تو خطروں کو مٹا دیا کرتی ہے۔محبت تو خطروں کے ازالے میں کام آتی ہے۔پس دونوں جگہ محبت میں جھوٹ شامل ہو گیا ہے۔دونوں جگہ نظریں ٹیڑھی ہو گئی ہیں اور حقیقت حال کو دیکھنے سے کلیۂ عاری ہو چکی ہیں ورنہ یہ ناممکن تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے صحابہ ، آپ کے صحابہ اور آپ کے اہل بیت کے درمیان ایسی پھٹ جاتی کہ گویا ایک سے وابستگی اور دوسرے سے نفرت کے ہم معنی ہو جاتا۔ایک سے نفرت دوسرے کی محبت کے مترادف ہو جاتا یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو محبت میں کوئی جھوٹ نہیں اُن محبت کا دعوی کرنے والوں میں ضرور جھوٹ ہے جو اُس محبت کو یہ رنگ دیتے ہیں۔پس میں تمام اہل اسلام کو ان احمدیوں کی وساطت سے جو اس خطبے کوسن رہے ہیں یہ پیغام دیتا ہوں کہ یہ محرم کے دنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ۔دلی محبت پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا کریں اور سنیوں کا یہ کوئی حق نہیں ہے کہ وہ لوگ جو اہل بیت کی محبت میں جلوس نکالتے ہیں خواہ ان کی رسمیں پسند آئیں یا نہ آئیں ان کے محبت کے اظہار میں کسی طرح مخل ہوں اُن پر پتھراؤ کریں ان پر گولیاں چلائیں ان پر گالیوں کی بارش کریں یہ کیا انداز ہیں محبت کے۔یہ تو دلوں میں گھٹی ہوئی اور گھولی جانے والی نفرتیں ہیں جو ابل ابل کر باہر آرہی ہیں پس جب تک حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کو اور آپ سے سچی محبت کو تمام امت کو باہم باندھنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔اُس وقت تک امت کے مسائل حل نہیں ہو سکتے سب ہی حضور کی محبت کا دعوی کر کے ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی تعلیم دیتے ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے ۷۲ حصوں میں امت کو تقسیم کر گیا اور آج تک ان کو ہوش نہیں آئی