حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 6

۔پس جماعت احمد یہ کو آنحضور کی محبت کا پیغام اس رنگ میں امت کو دوبارہ دینے کی ضرورت ہے جس رنگ میں پہلی بار دیا گیا تھا۔قرآن کریم نے جو دلوں کے باندھنے کا ذکر فرمایا ہے وہ اللہ کی نعمت کے ساتھ دلوں کو باندھنے کا ذکر فرمایا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور حقیقت یہ ہے کہ آپ ہی کی محبت نے ایک دوسرے کے دشمن قبائل کو یکجان کر دیا تھا وہ جو ایک دوسرے کی جان کے دشمن تھے وہ بھائیوں کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر جان نثار کرنے والے دوست بن چکے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو نکال کر اس کا تصور بھی قائم نہیں ہوسکتا تھا۔ناممکن دکھائی دیتا تھا پس اگر چہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بالا رادہ ایسا کام نہیں کیا مگر اللہ نے آپ کی ذات میں آپ کی نعمت میں ایک ایسی غیر معمولی کشش رکھ دی تھی کہ ناممکن تھا کہ لوگ آپ کی ذات پر ایک مرکز کی حیثیت سے جمع نہ ہو جائیں۔پس مرکز مدینہ نہ تھامرکز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے مرکز مکہ نہیں تھا۔مرکز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔جہاں کہیں آپ جاتے تھے وہیں مرکز منتقل ہوتا تھا۔آپ بیٹھتے تھے تو اسلام کا مرکز آپ کی ذات میں بیٹھتا تھا۔آپ اٹھتے تھے تو اسلام کا مرکز آپ کی ذات میں اُٹھتا تھا اور یہی وہ نقطہ تھا جو صحابہ کے عشق نے ہمیشہ کے لئے ہم پر حل کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرکز سے محبت اور آپ کی ذات میں اکھٹے ہونے کا نام ہی اسلامی وحدت ہے اور یہی توحید کا پیغام ہے جو آج ہمیں ساری دنیا کو دینا ہے کیونکہ سب سے زیادہ اس امت کا حق ہے کہ انہیں دوباره از مئہ گزشتہ کی یاد دلا کر ان زمانوں کے واسطے دے کر جن زمانوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بھی تھی آپ کے صحابہ بھی تھے اور کسی کے دل پھٹے ہوئے نہیں تھے وہ تمام صحابہ جب حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کو دیکھتے تھے تو ان کی نظریں عشق اور فدائیت سے اُن پر پڑتی تھیں ان کے ذکر کو دیکھو کیسے کیسے پیار سے حدیثوں میں محفوظ کئے گئے ہیں کس طرح صحابہ اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر سوار دیکھتے تھے نماز میں، جب سجدوں میں جاتے تھے تو کس طرح پیار سے ان کو اتار دیا کرتے تھے کس طرح ساتھ کھیلتے