حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 4

(4) انداز نہیں کیا جاسکتا مگر اس کے برعکس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے پیدا ہونے والے محبت کرنے والوں اور محبوبوں کا ذکر تو محبت سے کیا جائے مگر اُن کا جن کا خونی رشتہ نہ بھی تھا مگر خونی رشتہ سے بڑھ کر اپنی جانیں انہوں نے آپ پر شارکیں اُن کا بغض سے ذکر کیا جائے اگر ایسا ہو تو ایسے شخص کے ایمان کے خلاف یہ گواہی بھی بہت مضبوط اور ناقابل تردید گواہی ٹھہرے گی۔پس حقیقی اور سچی بیچ کی راہ وہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس نے جس رنگ میں بھی تعلق باندھا خواہ خون کا رشتہ تھا یا نہ تھا۔اُس سے طبعی بے ساختہ دل میں پیار پیدا ہو یہ سچی علامت ہے۔انسان کے ایمان کی اور آنحضور سے حقیقی وابستگی کی۔آج عالم اسلام نہ جانے کن اندھیروں میں بھٹک رہا ہے کہ یہ دلو محبتیں آپس میں پھٹ چکی ہیں اور ان دونوں کو ایک گھر میں جگہ نہیں نصیب۔وہ لوگ جو اہل بیت کی محبت کا دعوی کرتے ہیں وہ اہل بیت کی محبت کے ساتھ آنحضور کے عشاق اور فدائیوں کا نفرت اور بغض سے ذکر کرنا بھی جزو ایمان سمجھتے ہیں جن کا ان معنوں میں خونی رشتہ نہیں تھا۔جن معنوں میں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کا خونی رشتہ تھا یا آپ کی اولاد کا تھا۔اور اس طرح محبت میں زہر گھول دیتے ہیں اور اُس کے برعکس وہ لوگ جو صحابہ کرام کی عزت بلکہ گہری محبت اور عقیدت کو دل میں جگہ دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں اس کے ساتھ محرم کے دنوں میں شیعوں کے خلاف حرکت کرنا اور اُن کی مجالس کو درہم برہم کرنا ان کے جلوسوں میں مخل ہونا یہ بھی ایک ایمان کا حصہ ہے اور وہ رشتے جو باہم جوڑنے کے لئے بہت ہی اہم کردار ادا کر سکتے تھے جو تمام عالم اسلام کو ایک جگہ اکٹھا کرنے میں ایک بہت ہی مضبوط کردار ادا کر سکتے تھے ان کو اکٹھا کرنے کی بجائے باہم تفریق کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔پس محترم کے دن وہ دن نہیں ہیں جن میں یہ کہا جاسکتا کہ آج اہل بیت کی قربانیوں کی یاد میں تمام عالم اسلام اکٹھا ہو گیا ہے اور پہلی سب نفرتیں مٹ چکی ہیں۔کوئی فرقے کی تفریق باقی نہیں رہی آج اس محبت کے صدقے ہم ایک ہاتھ ہر ایک جان کے نذرانے لئے ہوئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔اس کے برعکس ایک عجیب بات اخباروں میں پڑھتے اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ذکر سنتے ہیں کہ محرم آ رہا ہے سخت خطرات ہیں بڑی دشمنیاں ہوں گی گلیوں میں