حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 3
بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ تشهد، تعوذ تسمیہ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔یہ مہینہ محرم الحرام ہے جس کی بہت سی فضیلتوں کا احادیث میں اور اسلامی لٹریچر میں ذکر ملتا ہے لیکن اس موقعہ پر آج کے خطبہ میں میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت ، آپ کی آل سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ رشتہ ہے جس رشتے سے ہمارا خدا سے رشتہ بنتا ہے۔پس آپ کی اولاد سے اس تعلق کا قائم نہ رہنا یا اولاد سے کسی قسم کا بغض ان دونوں رشتوں کو کاٹ دیتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد وہ اولاد نہیں تھی جس نے اپنا روحانی تعلق حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قائم نہ رکھا بلکہ وہ اولاد تھی جس نے اس تعلق کے تقاضوں میں اپنی جانیں دے دیں اور عظیم ترین قربانیاں پیش کیں۔پس اس پہلو سے وہ جس کے دل میں اہل بیعت کا بغض ہے۔حقیقت میں اُس کے دل میں محمد رسول اللہ کا بغض ہے اور اسلام کا بغض ہے اور اس کی کوئی نیکی حقیقی نیکی نہیں کہلا سکتی۔یہ ایک طبعی حقیقت ہے کہ جس سے محبت ہو۔اُس کے محبوب سے محبت ہو۔جس سے محبت ہو اس سے جو محبت کرتے ہیں اُن سے بھی تعلق قائم ہو۔اور یہ دونوں باتیں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی پیاری اور مقدس بیٹی حضرت فاطمہ کی اولاد کو نصیب تھیں۔اُن سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت تھی اور وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے تھے اور پھر یہ خونی تعلق بھی تھا۔اس لئے کسی مسلمان کے تصور میں بھی یہ بات نہی آسکتی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے دوری تو در کنار اس کے وہم میں بھی یہ بات داخل ہو کہ میرا اُن سے کسی قسم کا تعلق ٹوٹ سکتا ہے اس کے بالکل بر عکس ایک گہری بے ساختہ محبت حقیقت میں اس کے ایمان پر گواہی ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار پر یہ محبت ایک ایسی پختہ اور دائمی گواہی دے گی کہ جس کو نظر