حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 20

(20) میں منسلک اور دوسروں سب کا اکٹھا ذکر فرما رہے ہیں اور تمام صحابہ کی تعریف فرما رہے ہیں۔اس میں نعوذ باللہ اہلِ بیت اس تعریف سے خارج نہیں ہوئے۔بلکہ جیسا کہ میں حوالے پڑھ چکا ہوں اوّل طور پر حضرت مسیح موعود کے پیش نظر ہیں۔فرماتے ہیں :۔پھر صحابہ حقیقت محمدیہ جلالیہ کے وارث ہوئے جیسا کہ تجھے معلوم ہو چکا ہے ان کی تلوار مشرکین کی جڑ کاٹنے کے لئے اُٹھائی گئی اور مخلوق پرستوں کے ہاں اُن کی ایسی کہانیاں مذکور ہیں جو بھلائی نہ جاسکیں گی اور انہوں نے صفت محمدیہ کا حق ادا کر دیا۔اعجاز مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۵۱ ترجمه از عربی) پس صفت محمدیہ کو صحابہ نے رائج فرمایا ہے یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے۔وہ تمام صفاتِ حسنہ جو خونی رشتوں میں تعلق رکھنے والے اہلِ بیت میں تھیں تو تمام خوبیاں نہ ان کی ذاتی تھیں، نہ اُن کی ذات تھیں۔وہ صفت محمدیہ کے مجازی ہونے کے نتیجہ میں تھیں۔جو اس نکتے کو سمجھ جائے وہ ایک کے مقابل پر دوسرے سے نفرت کر ہی نہیں سکتا۔کیونکہ صفتِ محمدیہ کی طرف پیٹھ رکھ کر صفت محمدیہ سے محبت نہیں کی جاسکتی۔صفت محمدیہ پر حملہ آور ہوتے ہوئے صفتِ محمدیہ کے عشق کے گیت نہیں گائے جا سکتے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس اعلیٰ پیرایہ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہی کو صحابہ میں جلوہ گر دکھایا۔فرمایا وہاں بھی سیرت محمد یہ کام کر رہی ہے۔یہاں بھی سیرت محمدیہ کا کام کر رہی ہے۔اے سیرت محمدیہ کے عشاق کیا تم سیرت محمدیہ سے دشمنی کرو گے۔پس جہاں حسن محمدی کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔مِحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ ( سورة الفتح آیت ۳۰) وہاں کسی اہلِ بیت یا غیر اہلِ بیت کی کوئی تفریق نہیں ہے۔اور محسن ہے تو محمد کا حسن ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔سیرت ہے تو محمد کی سیرت ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔