حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 21
(21) اور صحابہ میں اگر کوئی مدح کی بات پائی جاتی ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنانے کے نتیجے میں اور بعینہ یہی وجہ فضیلت کی اہل بیت میں پائی جاتی ہے۔اس کے سوا کوئی وجہ نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو اور اُن کے تابعین کو اسم محمد کا مظہر بنایا اور اُن کے ذریعہ رحمانی جلالی شان ظاہر کی اور انہیں غلبہ عطا کیا اور پے در پئے نعمتوں کے ذریعہ اُن کی نصرت اعجاز اسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۱۰ ترجمه از عربی ) فرمائی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذکر میں فرماتے ہیں :۔صحابہ رضوان اللہ علیہم کے زمانے میں تو یقین کے چشمے جاری تھے اور وہ خدائی نشانوں کو اپنی آنکھوں کو دیکھتے تھے اور انہی نشانوں کے ذریعہ سے خدا کے کلام پر انہیں یقین ہو گیا تھا اس لئے ان کی زندگی نہایت پاک ہوگئی تھی۔اعجاز اسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۸) اب یہ وہ حصہ ہے جس کی کمی کی وجہ سے ساری اُمت یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے لوگوں میں فساد پیدا ہوا ہے۔یہ وہ نقطہ ہے جس کو نہ سمجھنے کے ذریعہ۔جس پر عمل نہ کرنے کے نتیجہ میں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خدائی نشان دیکھے اور اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس ذریعہ سے خدا کے کلام پر انہیں یقین ہو گیا تھا اس لئے ان کی زندگی نہایت پاک ہوگئی تھی۔پس جنہوں نے الہبی نشان دیکھے ہوں لازم ہے کہ ان کی زندگی پاک ہو۔اور پاک زندگیوں میں یہ بدنو مہ نہیں دکھائی نہیں دے سکتے۔جو محرم کے دنوں میں آپ دیکھتے ہیں۔یہ ناممکن ہے کہ پاک دلوں سے دوسرے پاکوں کے خلاف نفرت اور بغض کے کلمے اس طرح نکلیں جس طرح پھوڑے سے پیپ نکلتی ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا پاک وجود صحتمند وجود ہوتا ہے۔اس میں گندی پیپ کے پالے پھوڑے نہیں ہوا کرتے۔پس جب بھی صحابہ کے خلاف شیعوں کی مجالس میں سخت قسم کی ظالمانہ زبان