حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 19

(19) پنجروں کو دوبارہ پھانسی پر لٹکا یا گیا ہے۔یہ ہلاکوں خاں کا واقعہ بھول گئے ہو کہ ایک سنی دور میں بعض شیعوں پر مظالم ہوئے ہیں۔اُس کے رد عمل کو طور پر شیعہ وزیر نے پھر انتقام لیا اور اُس نے ہلاکو خاں کو دعوت دی کہ آؤ اور اس ملک پر قبضہ کر لو۔یہ تاریخ بتا رہی ہے۔وہاں کون سی ”را تھی جو اپنا کام دکھاتی۔میں ہندوستان کے حق میں بات نہیں کر رہا۔میں کسی کے حق میں بھی بات نہیں کر رہا نہ کسی کے خلاف بات کر رہا ہوں۔میں سمجھا رہوں کی حقیقت حال پر نظر رکھو۔نفرتیں جہاں پرورش پاتی ہیں وہی جگہ ہے نگرانی کی اور ان نفرتوں کی پرورش میں اگر کوئی گھس کر مزید انگیخت کرے تو وہ ایسی کوشش کر سکتا ہے اس سے انکار نہیں۔لیکن نفرتیں قائم ہیں تو یہ کوششیں پھر ضرور کامیاب ہونگی اور یہ عذر قابل تسلیم نہیں ہوگا کہ فلاں نے ایسا کر واد یا تم کرنے پر تیار بیٹھے تھے اُس نے جو تلوار نیچے گری ہوئی تھی اُٹھا کر تمہارے ہاتھ میں تھما دی اس سے زیادہ تو اس کا کوئی کام نہیں۔لیکن کرتے تم ہو تمھاری نیتیں ہیں جن میں زہر گھلے ہوئے ہیں وہ نیتیں ہیں جو ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتیں۔وہ آنکھیں جو ایک دوسرے کو اچھا دیکھ نہیں سکتیں۔ان نفرتوں کا علاج کرا ان نظروں کو درست کرنے کی کوئی تدبیر کرو۔ان دلوں سے نفرتیں ہٹا کر ان میں محبتوں کے رس گھولنے کی کوشش کرو۔اس کے سوا کوئی علاج ہی نہیں ہے اور یہ علاج امام وقت تمہیں بتا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود جو حکم ، عدل بن کر آئے تھے وہ سلیقہ سکھا رہے ہیں کہ دیکھو اس طرح صحابہؓ کی بھی تعریف کرو اس طرح اہلِ بیت کی بھی تعریف کرو ان پر بھی درود بھیجو۔ان پر بھی درود بھیجو۔ایک ہی ذریعہ ہے امت کے اکٹھے ہونے کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔یقیناً ہمارے نبی خیر الوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، ہمارے رب اعلیٰ کی دونوں صفات رحمانیت اور رحیمیت کے مظہر تھے۔پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم حقیقت محمدیہ جلالیہ کے وارث ہوئے جیسا کہ پہلے تجھے معلوم ہو چکا ہے۔(اعجاز اسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۵۱ ترجمه از عربی) اب ان صحابہ کے ذکر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اہلِ بیت یعنی خونی رشتہ