حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 16

(16) تھا۔لیکن یہ جو آج ہم دیکھ رہے ہیں یہ بالکل برعکس قضہ ہے۔سپاہ صحابہ کے دلوں میں شیعوں کی نفرت ہے جو موجزن ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شیعوں میں سے کسی کا قتل کا یا ان میں سے کسی مجلسی کا قتل کرنا نہ صرف یہ کہ اللہ کے حضور اُن کے لئے اعلیٰ مراتب کا ضامن ہو جائے گا بلکہ بعض اُن میں سے مولوی یہ بیان کرتے ہیں کہ تم ایسا کرو اور اس کوشش میں تم مارے جاؤ تو تم سردارانِ بہشت میں شمار ہو گے۔تم دیکھنا کہ کیسے کیسے پاک وجود تمہارے استقبال کے لئے جنت کے دروازے تک آتے ہیں۔ایسے ایسے لغو قصے بیان کئے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ان قصوں کے ماننے والے دماغ کس قسم کے ہوں گے مگر ہمارے ملک میں بدقسمتی سے جہالت بہت ہے۔اور یہی جہالت ہے جو اس تحریب کو مزید ہوا دے رہی ہے اور ان فاصلوں کو بڑھا رہی ہے۔پس محترم میں محبت کی اور باہم رشتوں کو باندھنے کی تعلیم دینی ضروری ہے جیسا کہ مسیح موعود نے فرمایا ہے:۔حقیقت یہ ہے کہ اول زور روحانی تعلق پر دینا ضروری ہے اور پھر جسمانی طور پر اگر تعلق ہے تو اس تعلق میں اضافہ ہوگا کمی نہیں ہو سکتی“۔یعنی سونے پر سہاگے کا کام دے گا جسمانی تعلق۔لیکن شرط ہے کہ پہلے روحانی تعلق قائم ہو۔اور روحانی تعلق پر زور دیا جائے پھر زائد کے طور پر جب لوگوں کو جسمانی رشتہ دکھائی دے گا تو لازماً سب کو محبت ہوگی۔پس سنیوں کو بجائے اس کے کہ نفرتوں کی تعلیم دیں اور اُن کے جلوسوں پر حملہ آور ہوں اور طرح طرح سے اُن کی راہیں روکیں یا کاٹیں یا اُن پر بم پھینکیں یا زبان سے گندی گالیوں کی گولہ باری کریں اُن کا فرض ہے کہ ایسے موقعہ پر اُن سے بڑھ کر صحابہ کے عشق کی باتیں کیا کریں اور اُن میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت کو جو صحابہ کا درجہ بھی رکھتے ہیں روحانی وارث بھی تھے اور روحانی وارثوں میں بھی بہت بلند مقام پر فائز تھے اُن کا ذکر بھی کریں اور دوسرے صحابہؓ کا ذکر بھی کریں۔صدیقوں کا ذکر بھی کریں اور شہیدوں کا